خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 390

خطبات طاہر جلد ۹ 390 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۹۰ء دوسرے کی صورت پسند نہیں، ایک دوسرے کی عادتیں پسند نہیں اور بے شمار ایسی دیواریں ہیں جو درمیان میں حائل ہیں اور پھر اس نیت سے کہ میرا خدا چاہتا ہے کہ میں یہ دعا کروں اور مستقبل کی نسلوں کی حفاظت کی خاطر میرے لئے ضروری ہے، دین کی خاطر میرے لئے ضروری ہے۔طبیعت پر بوجھ ڈال کر مگر خلوص نیت سے یہ دعا کرتا ہے تو اس دعا میں ویسا ولولہ تو نہیں ہوسکتا جیسے امتحان میں پاس ہونے کی خاطر ایک گھبرایا ہوا اور ڈرا ہوا طالب علم دعا کر رہا ہوتا ہے۔بعض دفعہ وہ چیخیں مارتا ہے کہ اے خدا ! میں تو ذلیل ورسوا ہو جاؤں گا، میرے مستقبل کا انحصار ہے، میں نے سارا سال نہیں پڑھا مگر اب رحم فرما اور مجھے پاس کر دے۔ایسی دعا میں بظاہر کتنا غیر معمولی جوش پایا جاتا ہے اور یہ دعا جب آدمی ان حالات میں مانگے گا جو میں نے بیان کئے ہیں تو وہ جوش پیدا نہیں ہوگا لیکن اپنے اوپر جبر کر کے وہ دعا کرے گا اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایسی دعا بظا ہر جوش میں کمی کے باوجود زیادہ مقبول ہوگی اور ایسی دعاؤں کے طفیل آپ کی دوسری دعائیں بھی قبول ہوں گی۔یہ نکتہ ہے جس کو آپ کو سمجھنا چاہئے کیونکہ اگر آپ کی دعا ئیں محض طبعی خواہشات اور تمناؤں کے تابع ہیں تو ایک پہلو سے آپ اپنی ہوا کی عبادت کر رہے ہیں۔اپنی خواہشات کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ تو جھوٹا ہے۔خدا تمہاری ان آوازوں کو نہ سنے گا ، نہ قبول کرے گا۔پس بظاہر آپ خدا کو مخاطب ہوتے ہیں مگر جس شخص کی ساری زندگی محض حوائج نفس کے لئے وقف ہو اور اپنی طبعی تمناؤں کی پیروی میں وہ دعائیں کرتا ہو عملاً اس کی دعائیں رائیگاں جاتی ہیں اور ان کا نشانہ خدا نہیں ہوتا ان کا قبلہ کچھ اور ہوتا ہے اور قرآن کریم نے فرمایا ہے یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے نفس کی تمنا کو اپنا معبود بنالیا ہے پس بظاہر وہ خدا کا نام لے رہا ہوتا ہے اور حقیقت میں اپنے نفس کی عبادت کر رہا ہوتا ہے۔اس کی دعائیں کیسے مقبول ہوسکتی ہیں۔ہاں اگر اس کی دعاؤں کے دائرے میں ایسی دعا ئیں بکثرت شامل ہو جائیں جس کا اس کے نفس کے رحجانات سے طبعی تعلق نہ ہو اور خالصہ بنی نوع انسان کی خاطر وہ اپنے نفس کو اس طرف مائل کر کے دعائیں کرتا ہو تو ان دوسری دعاؤں سے شرک کا الزام اٹھ جاتا ہے پھر ایک نیا مضمون ابھرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ ہے خدا کا بندہ۔جب ایسی باتوں میں بھی دعائیں کر رہا ہے جس میں اس کی خواہش نہیں تو جو طبعی دعائیں خواہش کے نتیجے میں ہوتی وہ بھی پاکیزگی کا رنگ اختیار کر لیتی ہیں اور اسی نظر سے دیکھی جانی چاہیں تو ایسے لوگوں