خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 389

خطبات طاہر جلد ۹ 389 خطبہ جمعہ "رجولائی ۱۹۹۰ء تقویت پیدا ہو جاتی ہے، اس کو قبولیت کا پھل لگنے لگتا ہے۔اگر اس کے بغیر دعا کریں گے تو اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔دعاؤں کے متعلق یہ یادرکھنا چاہئے کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ دعا وہی مقبول ہوتی ہے جو دل کے جوش کے ساتھ کی جائے اور بسا اوقات یہ دیکھتا ہے کہ دل کے جوش کے ساتھ دعا کر رہا ہے لیکن اس کو پھل نہیں لگا۔اصل میں دعا کا مضمون بھی بہت باریک اور وسیع ہے اور چونکہ یہ سارا دعا کا ہی مضمون چل رہا ہے اور اس دعا کے مضمون پر ہی یہ آیات ختم ہوتی ہیں اس لئے اس خاص پہلو کی طرف میں آپ کو مزید متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک شخص جس کو دنیا کی حرص ہے وہ روپیہ چاہتا ہے ، دولت چاہتا ہے، مکان چاہتا ہے دنیاوی عزتیں چاہتا ہے اس کو طبعی طور پر ایسی دعاؤں کی لگن ہوگی اور ان دعاؤں کے لئے اس کے دل میں ایک طبعی جوش پایا جائے گا اور وہ دعائیں کرتا چلا جاتا ہے اور وہ دعائیں مقبول نہیں ہوتیں۔آخر کیا وجہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نیکی کی وہ مقامات جن کے لئے اس کے دل میں طبعی جوش نہیں ہے۔وہ ان مقامات کو حاصل کرنے کے لئے دعا نہیں کرتا اور اپنی ایک عادت مستمرہ یعنی جاری رہنے والی عادت کے ذریعے وہ یہ ثابت کر دیتا ہے کہ میری دعائیں صرف میرے نفس کے لئے ہیں خدا تعالیٰ کے لئے نہیں اور نیکی کی خاطر نہیں۔مثلاً یہی دعا ہے یہ دعا ایسی ہے جہاں اگر تعلقات خراب ہوں تو دل چاہتا ہی نہیں دعا کرنے کو اور دعا کرنا انسان کو محض اس وقت نصیب ہوسکتا ہے جب وہ خدا کی خاطر اپنی طبیعت کے خلاف دعا کر رہا ہے۔تو ضروری نہیں ہے کہ طبیعت کے مطابق دعائیں قبول ہوں۔بعض ایسے مواقع ہیں جہاں طبیعت کے خلاف دعا ئیں بہت زیادہ مقبول ہوئی ہیں اور ان کے اندر بہت زیادہ قوت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی مختلف وجوہات ہیں ایک وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی طبیعت کے خلاف نیک باتوں کی خواہش کی وجہ سے دعا کرتا ہے۔یعنی خواہش سے مراد ہے نیک باتوں کے احترام میں دعا کرتا ہے۔اللہ کی خاطر وہ ایک نیکی کو حاصل کرنا چاہتا ہے دل نہیں کرتا اس نیکی کو پکڑ نے کے لئے کوئی بدی ہے جس میں وہ ملوث ہو چکا ہے اس سے چھٹکارا نصیب نہیں ہوتا اور واقعہ درد دل کے ساتھ ، باوجود اس علم کے کہ جس دن یہ بدی مجھ سے چھوٹی میری زندگی کا مزا ہا تھ سے جاتا رہے گا پھر دعا کرتا ہے تو یہ دعا طبیعت کے خلاف ہونے کی بجائے قبولیت کے زیادہ اہل ہو جاتی ہے۔پس جہاں مزاج کے اختلاف ہوں جہاں میاں بیوی کے درمیان طبعی دوریاں ہوں۔ایک