خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 388

خطبات طاہر جلد ۹ 388 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۹۰ء پس اس پہلو سے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کہ یہ دعا ایک حیرت انگیز طور پر وسیع اثر دکھانے والی دعا ہے اور اس دعا کے بغیر ہم حقیقت میں زندگی کے سانس نہیں لے سکتے کیونکہ مومن کی زندگی کے سانس تقویٰ کی صحت سے تعلق رکھتے ہیں جسے تقویٰ کی صحت نصیب نہ ہو تو جس طرح دے کے مریض کا دم گھٹ جاتا ہے اس طرح روحانی لحاظ سے اس کا دم گھٹ جاتا ہے۔پس اس دعا کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور دونوں پہلوؤں کے لحاظ سے یعنی مستقبل کے لحاظ سے بھی اور ماضی کے لحاظ سے بھی ہمیشہ سوچ کر اور غور کے ساتھ یہ دعا مانگا کریں اور خدا تعالیٰ سے مدد مانگیں کہ آپ کو وہ متقی بنائے جو محمد رسول اللہ اللہ کے غلام بننے کے شایان شان ہوں اور آپ کی اولاد کو ایسا متقی بنائے کہ وہ آپ کی اولاد کہلانے کی شایان شان ہو اور ہمیشہ ہمیش کے لئے یہ تعلقات اسی طرح دونوں سمت میں مضبوط تر ہوتے چلے جائیں۔لیکن ایک بیچ کا پہلو ہے جس کو اس آیت نے ہمارے سامنے رکھ دیا کہ جن میاں بیوی کے تعلقات ایک دوسرے سے تقویٰ پر مبنی نہیں ان کا نہ ماضی محفوظ ہے نہ مستقبل محفوظ ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا کہ خیر کم خيــر كـم لاهـلـه وانـا خـيـر كـم لاهلی ( ترمذی کتاب المناقب حدیث نمبر : ۳۸۳۰) کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہل کیلئے بہترین ہے اور دیکھو میں اپنے اہل کے لئے بہترین ہوں یعنی تم سب میں اس لئے بہترین ہوں کہ اپنے اہل کے لئے بہترین ہوں کہ آپ اپنے اہل کے لئے بہترین ان معنوں میں تھے کہ آپ نے ان کے تمام حقوق ادا کئے اور ایک حق کا ادنی سا حصہ بھی نہیں رکھا اور اس کے ساتھ ان کے اخلاق کی نگرانی کی اور ہمیشہ مسلسل کی ان کی تربیت کی طرف متوجہ رہے اور بعض دفعہ راتوں کو اٹھ کر اپنی بیٹی کے گھر جایا کرتے تھے۔حضرت فاطمہ اور ان کو حضرت علی کو نماز کے لئے جگایا کرتے تھے یا تہجد کے لئے جگایا کرتے تھے۔یعنی ایسا مستقل آپ کو اپنی اولاد کی تربیت کا دھیان تھا یا یوں کہنا چاہئے کہ لگن لگ گئی تھی کہ بلا استثناء کوئی دن ایسا نہیں ہے جب آپ نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف اور اپنی اولاد کی طرف تربیت کے لحاظ سے توجہ نہ کی ہو تو خَیرُ كُم سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ دنیا کے معاملات میں ان کے حقوق ادا کرنے والا بلکہ خَیرُ تُم سے مراد یہ ہے کہ اول طور پر دین میں ان کے حقوق ادا کرنے والا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے والا۔اس کے بعد جب یہ دعا کی جاتی ہے کہ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ تو اس دعا میں غیر معمولی