خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 383
خطبات طاہر جلد ۹ 383 خطبہ جمعہ ۶ رجولائی ۱۹۹۰ء۔نہیں ہوتی اور وہ رخنے خلا پیدا کر دیتے ہیں تعلقات میں اور تعلقات کو کمزور کر دیتے ہیں جیسا کہ بعض دفعہ کل پرزوں میں تعمیر کے وقت بلبلے رہ جاتے ہیں اور جب غیر معمولی دباؤ میں وہ کل پرزے چلیں تو جہاں جہاں وہ بلبلے رہ جاتے ہیں وہاں سے وہ ٹوٹ جاتے ہیں اسی طرح انسانی تعلقات میں بہت سے رخنے ایسے رہ جاتے ہیں جو تقویٰ کی کمی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ کمزور مقامات ہمیشہ خطرے کا مقام بنے رہتے ہیں۔جب کبھی بھی غیر معمولی دباؤ میں انسان آئے اور ابتلاء بڑھ جائیں یا مشکلات نازل ہوں تو ایسے وقت میں ان کمزور جگہوں پر حملہ ہوتا ہے اور پھر رخنے نمایاں طور پر پھٹ کر انسانی تعلقات کو پارہ پارہ کر دیتے ہیں اور بکھیر دیتے ہیں تو یہ مضمون عمومیت کے لحاظ سے آپ سمجھ لیں تو تفصیل سے جب آپ اپنے تعلقات پر غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جب بھی تعلقات کسی دباؤ میں آئیں اس وقت انسان کو اپنی کمزوریوں کا پتا چلتا ہے۔اس کے بغیر نہیں پتا چلتا بچہ بیمار ہو، پریشانی ہو، غربت ہو اور ضرورت کی چیزیں پوری نہ ہو رہی ہوں۔بے وقت مہمان آجائیں یا غریب رشتہ داروں کی مدد کرنی ہو یا ماں باپ ایسے حال میں ہوں کہ ان کو مجبوراً اپنے گھر میں رکھنا ہو۔یہ سارے وہ امور ہیں جو معاشرے پر دباؤ ڈالتے ہیں اور میاں بیوی کے تعلقات پر دباؤ ڈالتے ہیں۔وہ بیوی جو اس سے پہلے بہت ہی اچھی دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔انسان سمجھتا ہے یہ تو کلیہ میری وفا دار اور میرے ساتھ تعاون کرنے والی اور میری زندگی کا ساتھی ہے۔وہ خاوند جو بیوی کو ایک فرشتہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے اگر وہ پہلے دکھائی دے رہا ہو جب اس قسم کے دباؤ پیدا ہو جاتے ہیں تو اس وقت ان دونوں کے اندرونی رخنے ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور وہی بلبلے ہیں جن مقامات سے پھر یہ تعلقات ٹوٹنا شروع ہوتے ہیں۔پس انسان کو اپنے اندرونے کا بھی خود پتا نہیں ہے اور اپنے رفیق حیات کے اندرونے کا بھی کچھ پتا نہیں ہے یعنی ان مقامات پر نظر نہیں ہے جو در حقیقت بعض وقت غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں اس لئے جو بھی چاہیں آپ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کوششیں کریں جب تک دعا سے مدد نہیں مانگیں گے آپ کے تعلقات سدھر نہیں سکتے اور آپ خطرات کے مقام سے باہر نہیں آسکتے۔للہ تعالیٰ کی ان باتوں پر نظر ہے اور جب انسانی تعلقات دباؤ میں آتے ہیں تو تقویٰ کام آتا ہے۔اس وقت حسن خلق کام نہیں آیا کرتا کیونکہ اخلاق کی بنیاد بعض دفعہ تقویٰ پر ہوتی ہے اور بعض دفعہ ایک عام