خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 382
خطبات طاہر جلد ۹ 382 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۹۰ء کو وہ اپنے دماغ میں جگہ دے سکیں لیکن اگر واقعہ ان کو کسی بات کا یقین ہے تو اس کے لئے اسلام نے ، اسلامی شریعت نے ایک کھلا رستہ رکھا ہوا ہے جسے اختیار کرنا چاہئے اس رستے کو اختیار کئے بغیر اپنی بیوی کو اس رنگ میں طعنے دینا کہ مجھے کیا پتا یہ اولا د میری ہے بھی کہ نہیں۔یہ ایک انتہائی بگڑی ہوئی مکروہ صورت ہے اور بعض دفعہ مجھے یہ معلوم کر کے تعجب ہوتا ہے بعض ایسے مرد جو اپنے معاشرہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور دینی کاموں میں بھی کسی حد تک شغف رکھتے ہیں۔اگر عہدہ پاس نہ بھی ہو تو جب ان کو کام کے لئے بلایا جاتا ہے تو وہ آگے آتے ہیں اور ان چہروں میں سے ہیں جو اپنی اپنی جماعتوں میں معروف ہوتے ہیں وہ بھی اپنی بیویوں سے لڑائی کے وقت اس قسم کے نہایت ہی مکر وہ کلمات استعمال کرتے ہیں اور بعض دفعہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ ان کے بچے ان باتوں کو سن رہے ہیں۔ایسے حال میں وہ یہ دعا کیسے کر سکیں گے کہ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اپنی بیوی کی راہ سے ان کو اولاد کا تقویٰ نصیب ہونا تھا اس تقویٰ کی راہ کو تو انہوں نے ہمیشہ کے لئے برباد کر دیا جب یہ کہا کہ مجھے کیا پتا ہے کہ یہ اولاد کس کی ہے تو اپنے ہاتھوں سے تقویٰ کی راہوں کو ہمیشہ کے لئے مسدود کر بیٹھے اور پھر ایسی اولا د سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایسے باپ کا ادب کرے گی اور آئندہ صحیح رستوں پر چلے گی۔آئندہ زمانے کے معاشرے کے لئے خوشخبریاں لے کے آگے بڑھے گی۔یہ ایک بالکل عبث توقع ہے اور عملاً یہ لوگ نہ صرف اپنے حال کو تباہ کرتے ہیں بلکہ دور تک مستقبل میں ان کے نفس کی تلخیاں معاشرے میں زہر گھولتی رہتی ہیں۔پس یہ دعا ایسے لوگوں کو نہ زیب دیتی ہے نہ وہ سوچ سکتے ہیں کہ ہم کریں لیکن جب تک اس دعا کے ذریعے مدد نہ مانگیں، قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں اور اگر تم دعاؤں کے ذریعہ مجھ سے مدد نہیں مانگو گے تو فرماتا ہے کہ تمہیں میں اس طرح چھوڑ دوں گا کہ گویا مجھے تمہارے عواقب کی کچھ بھی پرواہ نہیں کہ کس حال میں تم کسی بد انجام کو پہنچو مجھ سے تمہارا تعلق کٹ گیا اور یہ مضمون اسی دعا کے بعد بیان کیا گیا ہے۔تو خدا تعالیٰ کے اس آخری فرمان کا اس دعا کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور یقین کی حد تک انسان یہ کہ سکتا ہے کہ انسانی معاشرتی تعلقات اور خاندانی تعلقات دعا کی مدد کے بغیر کسی طرح سدھر نہیں سکتے۔انسان کے تعلقات میں بہت سے رخنے ہیں جن رخنوں کی انسان کو بعض دفعہ خبر بھی