خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 359
خطبات طاہر جلد ۹ 359 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء ہے۔کام کا بھی ایک نغمہ ہوتا ہے اور اُسی نفنے کی کے سے پھر وہ مزدور کام کرتا چلا جاتا ہے اور دیکھنے والا حیران ہوتا ہے کہ اتنی سخت محنت کے ساتھ کس طرح ایسی لگن سے مصروف ہیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے جو محنت کشوں کی جزا اُن کو ساتھ ساتھ دے رہا ہوتا ہے اور محنت سے بھاگنے والوں کو سزا اُن کو ساتھ ساتھ دے رہا ہوتا ہے۔جن لوگوں کے دل اپنے کاموں میں نہ ہوں اُن کا وقت گزرنا ایک مصیبت ہوتا ہے۔ایک ایک دن اُن کے لئے پہاڑ بن جاتا ہے۔جو کاموں کے سپرد کر چکے ہوں اپنے آپ کو اُن کو پتا ہی نہیں لگتا کہ وقت گزرا کس طرح اُن کے لئے یہ مصیبت ہوتی ہے کہ وقت تیز گزر رہا ہے۔پس تبلیغ کی دھن پیدا کریں پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کے لئے چوبیس گھنٹے ایک مسلسل روانی کے ساتھ گزرتے چلے جائیں گے، دن دن سے ملتے چلے جائیں گے ، ہفتے ہفتوں کے ساتھ ملتے چلے جائیں گے اور وقت آسان ہو جائے گا مشکل نہیں رہے گا۔مبلغین بھی جو بے کار بیٹھنے کے عادی بن جاتے ہیں اُن کو پتا ہی نہیں لگتا ہم نے کرنا کیا ہے؟ جب رپورٹوں کا وقت آتا ہے مصیبت پڑی ہوتی ہے۔تو پھر ایک دو گھنٹے کی رپورٹوں پر اتنا وقت لگاتے ہیں کہ دو گھنٹے کا کام اور چھ گھنٹے کی رپورٹ لکھی جاتی ہے اور صاف پتا چل جاتا ہے کہ آدمی کو کام کوئی نہیں ورنہ ایک مبلغ اپنے چاروں طرف نظر ڈالے دس پندرہ افراد کی جماعت ہو تو اُن کی تربیت پر بھی اس کو اتنا وقت دینا پڑے گا کہ وہ چوبیس گھنٹے سے زیادہ لمبے دن کا مطالبہ کرنے والا بن جائے گا۔یعنی زبان حال سے دعا کرے گا کہ اے خدا میرے دن میں اتنی برکت دے کہ چوبیس گھنٹے سے زیادہ گھنٹوں کا کام میں اس میں سنبھال سکوں اور اگر کام کا سلیقہ نہیں، کام سے محبت نہیں تو سینکڑوں کی جماعت میں بھی وہ بے کار بیٹھا رہتا ہے۔پس داعین الی اللہ ہوں یا مبلغین ہوں یا د رکھیں کہ جو باتیں میں نے بیان کی ہیں اُن کے علاوہ کام کی دھن کا سلیقہ حاصل کریں کس طرح کام کی دھن پیدا کی جاتی ہے اور پھر مگن ہو جائیں اور مست ہو کے کام کریں۔اس طرح جتنی جماعت کی آج تعداد ہے اگر سارے تبلیغ اسلام کے کام میں مست ہو جا ئیں تو دیکھتے دیکھتے ساری دنیا کی کایا پلٹ جائے گی۔عظیم الشان کام آپ سرانجام دے سکیں گے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے رستے کھل رہے ہیں اور کشادہ ہوتے چلے جارہے ہیں۔