خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 360
خطبات طاہر جلد ۹ 360 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء نئے نئے رستے پیدا ہو رہے ہیں لیکن چلنے والوں کی ضرورت ہے پس اُن چلنے والوں میں آپ شامل ہوں۔آخری بات دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔کوئی کام بھی دعا کے بغیر با برکت نہیں ہوتا۔جب آپ اخلاق حسنہ سے مزین ہو کر خدا کی خاطر ان کاموں میں مگن ہوں گے تو آپ کی دعاؤں میں غیر معمولی طاقت پیدا ہو جائے گی اور دعاؤں کے ذریعے آپ کے کام دس گنا زیادہ یا اُس سے بھی زیادہ گنا برکت حاصل کر لیں گے۔پس با اخلاق انسان کے لئے باخدا انسان بننا تو ایک آسان اور اگلا قدم ہے بلکہ حقیقت ہے کہ ساتھ ساتھ ہی وہ باخدا انسان بنتا ہی چلا جاتا ہے کیونکہ مذہب کی کہنہ یہ ہے کہ وہ اخلاق حاصل کرے جو خدا سے تعلق رکھنے والے اخلاق ہیں اور اخلاق حسنہ کا مطلب بھی باخدا بننا ہے لیکن یہ تو ایک انسان کے اندر واقعہ ہونے والے تجربات ہیں۔باخدا ان معنوں میں بھی انسان بنتا ہے کہ ایک باشعور طور پر اللہ تعالیٰ کی ہستی سے زیادہ سے زیادہ آشنا ہوتا چلا جاتا ہے اور تعلق بڑھاتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ جانتا ہے کہ خدا میرے ساتھ ہے اور کامل یقین رکھتا ہے اور روزمرہ کی زندگی میں اُس کو آئے دن ایسے تجربے ہوتے چلے جاتے ہیں۔اُس کو علم ہوتا ہے کہ خدا کوئی تصور کی بات نہیں ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کے سوا سب کچھ تصور ہے۔اس کیفیت تک جب مبلغ پہنچ جاتا ہے تو وہ انقلابی کیفیت ہوتی ہے۔پھر خدا اور اُس کی تقدیر تمام تر اُس کے ارادوں کے ساتھ چلتے ہیں۔گویا کہ ایسی خدمت کرنے والا ، ایسی دعوت کرنے والا خدا کے ارادے کے ساتھ اس طرح ڈھل جاتا ہے اور اس طرح ہم آہنگ ہو جاتا ہے کہ اُس کا ارادہ خدا کا ارادہ بن جاتا ہے۔پس یہ وہ مختصر چند باتیں ہیں جو دعوت الی اللہ کے سلسلے میں میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دنیا بڑی تیزی سے بدل رہی ہے۔یہ بدلتی ہوئی دنیا اگر ہم نے نہ سنبھالی تو اور لوگ اس کو سنبھال لیں گے۔ہم تھوڑے شکاری ہیں یہ دنیا جو اپنے آپ کو اب تبدیلیوں کے لئے پیش کر رہی ہے اس کے لئے بد شکاری ہم سے لاکھوں گنا زیادہ میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔اس لئے وہ شکار جو آپ نہیں کر سکیں گے وہ ضرور کر لیں گے اور اس دنیا کی ہلاکت کی ذمہ داری ہم پر بھی ہوگی جس کو ایک ہلاکت سے خدا تعالیٰ نے اس لئے نکالا تا کہ وہ امن کے ساحلوں پر ہلاکت کا سمندر اُن کو پھینک دے اور ہماری غفلت کی وجہ سے جیسے مگر مچھ نکلتے ہیں سمندروں سے یا شارک