خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 358
خطبات طاہر جلد ۹ 358 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء ذریعے جسے میں رحمت کہہ رہا ہوں لوگوں کے دل فتح کر سکیں گے۔تو تبلیغ کے لئے اخلاق حسنہ اور اخلاق حسنہ سے بلند تر مقام یعنی رحمانیت کا مقام حاصل کرنا بہت ہی ضروری ہے اور تلاش کی آنکھ پیدا کرنی چاہئے۔پھر بہت سے مبلغین کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ کام اس طرح کرتے ہیں جیسے کام اُن کے پاس آ جائے تو کر لیں گے، کام کی دھن ان پر سوار نہیں ہوتی اور بہت سے ایسے داعین الی اللہ کودیکھا ہے جن کے دوسرے کام ہیں وہ جماعت کے لئے بظاہر زندگیاں وقف نہیں کئے ہوئے لیکن دن رات اُن کو دعوت کی دھن سوار رہتی ہے۔پنجابی میں ایک آدمی جس کو ایک بات کی دھن سوار ہو کہتے ہیں اُس کو گھوگھی چڑھ گئی ہے۔جس طرح بخار چڑھنے سے ایک خاص قسم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اس طرح بعض دفعہ ایک طلب اور تمنا کا بخار چڑھ جاتا ہے اور وہ کیفیت انسان پر قبضہ کر لیتی ہے۔دن رات اسی کی لگن میں مبتلا رہتا ہے۔تو اس پہلو سے ایک اچھے مبلغ کے لئے دھن پیدا کرنی ضروری ہے۔وہ مست ہو جائے اپنے کام میں اور کام کی مستی اپنی ذات میں جزا ہے اصل میں اور اس کے بغیر کام میں مزا نہیں رہتا۔اس لئے وہ لوگ جو کم چور ہوتے ہیں خواہ وہ مبلغ ہوں یا باہر کے لوگ ہوں اُن کی آخری وجہ کم چوری کی یہی ہے کہ اُن میں کام کی محبت ایسی پیدا نہیں ہوئی کہ وہ اُن کے لئے دھن بن جائے اور اپنے کاموں میں وہ مست ہو جائیں۔میں نے مزدوروں کو دیکھا ہے سخت گرمی میں جو گندم کاٹتے ہیں کیونکہ میں جب زمیندارہ کیا کرتا تھا یعنی براہ راست اپنی زمینداری کی نگرانی کرتا تھا تو اکثر جب بھی موقع ملے اُسی گرمی میں اُن کے ساتھ پھرتا تھا۔کام میں ہاتھ بھی بٹاتا تھا اور دیکھتا تھا کہ ایک دن بھر میں ایک مزدور پر کیا گزرتی ہے۔تو میں نے ہمیشہ یہ دیکھا ہے کہ جو کام چور مزدور تھے اُن کی زندگی تو مصیبت ہوتی تھی۔اُن کا وقت نہیں گزر رہا ہوتا تھا، وہ کبھی اس کروٹ بیٹھتے ،کبھی اُس کروٹ ، کبھی ایک ڈھیری کو ہاتھ لگا کے کھسک کے دوسری ڈھیری کے پاس پہنچ جاتے تھے اور وقت نہیں ملتا تھا کسی طرح اور جن کو کام کی گھوگھی چڑھ جاتی تھی وہ اس طرح مست ہو کے پھر کام کرتے تھے کہ پتا نہیں چلتا تھا کہ اُن کا وقت کیسے گزر رہا ہے۔دیکھتے دیکھتے اُن کی درانتی جو ہے وہ یوں معلوم ہوتا تھا جس طرح ایک میوزک یا نغمے کی لئے کے ساتھ ایک ردھم پیدا ہوتا ہے، زیر و بم پیدا ہوتے ہیں اُس طرح مزدور کی جب وہ درانتی چلتی ہے اور وہ کام میں مگن ہو تو ایک قسم کی میوزک پیدا ہو جاتی