خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 350
خطبات طاہر جلد ۹ 350 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء اپنے درد کا اظہار کرتے ہیں جی ہماری خواہش تو تھی ہم کیا کریں، کچھ نہیں کر سکتے۔حالانکہ اگر آنکھیں کھول کر ذہین اور بیدار مغز کے ساتھ آپ خدمت کی راہیں تلاش کریں تو ہر جگہ میسر آ جاتی ہیں۔خواتین جو خدا تعالیٰ کے فضل سے آنکھیں کھول کر ذہانت سے خدمت کی راہیں تلاش کرتی ہیں اُن کو بھی اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرما دیتا ہے۔وہی محاورہ کہ شکر خورے کو خدا شکر دے ہی دیتا ہے۔اگر دل میں طلب پیدا ہو اور طلب سچی ہو تو کوئی نہ کوئی اُس طلب کو پورا کرنے کی راہ نکل ہی آتی ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ طلب سچی ہو اور کوئی رستہ نہ ملے۔یہ ضروری تو نہیں کہ ہر احمدی روس جائے ، یہ بھی ضروری نہیں کہ محض ہندوؤں سے رابطہ ہو یا سکھوں سے رابطہ ہو۔خدا کی مخلوق وسیع ہے اور آپ جہاں بھی ہیں وہاں خدا کی ایسی مخلوق کے بیچ میں گھرے ہوئے ہیں جن کا احمدیت اور اسلام سے تعلق نہیں ہے تو جہاں چاروں طرف شکار پھیلا پڑا ہو اور شکاری شکار میں گھرا ہوا ہو وہاں اُس کا یہ شکوہ یا یہ تفکرات کہ شکار کہاں سے تلاش کروں سوائے اس کے کہ یہ بات ظاہر کرتی ہو کہ اُس کی آنکھیں بند ہیں اور کوئی نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا۔سارے ماحول میں شکار ہے، ہر طرف ہے۔وہ آنکھ کھولنی چاہئے جو ان کھلتے ہوئے رستوں کو دیکھنا شروع کر دے۔اگر رستے کھل رہے ہوں اور آنکھیں بند ہوں تو اُن کھلتے ہوئے رستوں کا کیا فائدہ؟ اس لئے آج ضرورت ہے کہ ساری جماعت پوری جان اور دل اور حوصلے کے ساتھ اور اس یقین کے ساتھ کہ سارے عالم میں جو تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کو پھیلانے کے لئے پیدا ہو رہی ہیں اور اس کامل یقین کے ساتھ اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ کہ وہ چھوٹی سی قوم جس کو خدا تعالیٰ نے یہ توفیق عطا فرمانی ہے اور جس کے مقدر میں یہ بات لکھی جاچکی ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمائندگی میں اس زمانے میں اسلام پھیلانے کی ایک نئی مہم جاری کرے جو عالمگیر ہو اور ایسی طاقتور مہم ہو کہ اہر درابر دیگر قوموں پر، دیگر مذاہب پر غلبہ پاتی چلی جائے وہ آپ لوگ ہیں۔یہ یقین ہو تو یقیناً انسان کے رجحانات بالکل یکسر بدل جاتے ہیں۔انسان اپنے وقت کا حساب کرنے لگتا ہے۔دن رات اس سوچ میں فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ یہ کام میں کیسے سرانجام دوں۔پھر آنکھیں کھولتا ہے تو گرد و پیش دیکھتا ہے تو معلوم کرتا ہے کہ میرے تو ابھی ہمسایوں سے ہی تعلقات نہیں ہیں۔روز مرہ میں جن کاموں پر جاتا ہوں میرے