خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 351 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 351

خطبات طاہر جلد ۹ 351 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء ساتھی ہیں کبھی میں نے اُن کے سامنے بھی اسلام کے حق میں لب کشائی نہیں کی یا اس رنگ میں نہیں کی کہ اُن کو اسلام سے دلچسپی پیدا ہو۔اس ضمن میں میں نے بار ہا پہلے بھی یہ نصیحت کی ہے اور اس کو جتنا بھی دہراؤں کم ہوگا کہ اسلام میں دلچسپی پیدا کرنے سے پہلے اپنی ذات میں غیروں کی دلچسپی پیدا کریں۔ہرگز اسلام میں غیروں کو دلچپسی پیدا نہیں ہو گی اگر احمدی کی ذات دلچسپ نہ بن جائے اور لوگ اُس کی ذات میں دلچسپی لے کر پھر اُس مذہب کی جستجو شروع کریں جس نے اُسے دلچسپ بنایا ہے اور ذات میں دلچسپی کے لئے بہت ہی اہم بات یہ ہے کہ آپ اخلاق حسنہ سے مزین ہوں۔اسی لئے میں اخلاق حسنہ پر بار بار زور دیتا رہا ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اخلاق حسنہ کے ہتھیاروں کے بغیر یہ دنیا دین اسلام کے لئے فتح نہیں کی جاسکتی اور اخلاق حسنہ کے بغیر آپ اپنے ماحول کو بھی فتح نہیں کر سکتے ، اپنے گھر کو اپنے بچوں کو فتح نہیں کر سکتے۔یہ جو خط آتے ہیں کہ ہمارے بچے ہاتھ سے نکل گئے ، بیٹی بھاگ گئی نعوذ باللہ خدا کرے کہ ایسے واقعات احمدیت میں نہ ہوں کبھی لیکن ہورہے ہیں اُن سب کے پس منظر میں گھر یلو بداخلاقیاں ہیں اور اُس کے نتیجے میں اولاد کے ساتھ وہ گہرا رابطہ نہیں رہتا جو رابطہ ایک قوی اثر بن جاتا ہے۔جس طرح مقناطیس کے اثر سے لوہا بھاگ نہیں سکتا اس طرح اولا دبھی بھاگ نہیں سکتی۔تو اخلاق حسنہ کا فقدان ہے جو تربیت میں بھی بڑے تکلیف دہ مناظر پیدا کرتا اور دکھاتا ہے اور تبلیغ میں بھی انسان کو بے بس اور بے کس کر دیتا ہے۔اخلاق حسنہ میں عورتوں کو ایک بہت ہی اہم کردار ادا کرنا ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جب حساب فہمیاں ہونگی تو ایک بہت بڑی ذمہ داری بد اخلاقیوں کی عورتوں پر ڈالی جائے گی۔اکثر بداخلاقیاں جاہل ماؤں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔جاہل ماؤں کے گھروں میں بد اخلاقیاں پرورش پاتی ہیں جس طرح گندی غذا میں سونڈیاں اور کیڑے مکوڑے پرورش پاتے ہیں۔جاہل مائیں اپنی اولاد کے پیار اور محبت میں شرک کی حد تک پہنچ جاتی ہیں اور پھر اُن کے ہر عیب پر پردے ڈالتی ہیں اور ہر خوبی سے بے نیاز ہو جاتی ہیں کیونکہ اُن کو عیب خوبی دکھائی دے رہا ہوتا ہے اور اُس کے نتیجے میں وہ اُن کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں لوگوں کے حق غصب کرنے میں، اُن سے بد تمیزی کرنے میں ، بداخلاقی سے پیش آنے میں اور عجیب ظلم کی بات ہے کہ یہی مائیں جو اپنی اولاد کو عملاً خدا بنا کے پوج رہی ہوتی