خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 332

خطبات طاہر جلد ۹ 332 خطبہ جمعہ ۱۵ جون ۱۹۹۰ء بولشو یکی فتنہ کی روک تھام کے لئے حکام بالا کے حکم سے ان کی فوج روس کے علاقہ میں گھس گئی اور کچھ عرصہ تک وہاں رہی۔یہ واقعات عام طور پر لوگوں کو معلوم نہیں ہیں کیونکہ اس وقت کے مصالح یہی چاہتے تھے کہ روسی علاقہ میں انگریزی فوجوں کی پیش دستی کو خفی رکھا جائے۔ان دوست کا نام فتح محمد تھا اور یہ فوج میں نائک تھے۔ان کی تبلیغ سے ایک اور شخص فوج میں احمدی ہو گیا اور اس کو ایک موقعہ پر روسی فوجوں کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے لئے چند سپاہیوں سمیت ایک ایسی جگہ کی طرف بھیجا گیا جو کیمپ سے کچھ دور آگے کی طرف تھی۔وہاں سے اس شخص نے فتح محمد صاحب کے پاس آکر بیان کیا کہ ہم لوگ پھرتے پھراتے ایک جگہ پر گئے جہاں کچھ لوگ شہر سے باہر ایک گنبد کی شکل کی عمارت میں رہتے تھے۔جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اس عمارت کے اندر ایک ایسے آثار ہیں جیسے مساجد میں ہوتے ہیں لیکن کرسیاں بچھی ہوئی ہیں۔جو لوگ وہاں رہتے تھے ان سے میں نے پوچھا کہ یہ جگہ تو مسجد معلوم ہوتی ہے۔پھر اس میں کرسیاں کیوں بچھی ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ مبلغ ہیں اور چونکہ روسی اور یہودی لوگ ہمارے پاس زیادہ آتے ہیں وہ زمین پر بیٹھنا پسند نہیں کرتے اس لئے کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں“ یہ روس کا وہ مشرقی علاقہ ہے جہاں اسلام کے ظاہر ہونے کے ایک سوسال کے بعد ایک بہت بڑی قوم نے یہودیت اختیار کر لی تھی اور یہ تاریخ عالم کا خاص واقعہ ہے ورنہ تو عموماً یہودی نسلاً بعد نسل چلے آرہے ہیں اور یہ کوئی تبلیغی جماعت نہیں لیکن مشرقی یورپ سے آنے والے اکثر یہودی انہیں قبائل سے تعلق رکھتے ہیں جن کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے وہاں یہودیت اختیار کی تھی تو غالبا یہ وہی علاقہ ہوگا۔یہ میں اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ جن دوستوں نے وہ جماعتیں تلاش کرنی ہیں وہ ذہن نشین رکھیں کہ کون کون سی علامات ہیں جن کی پیروی کرتے ہوئے وہ احمد یہ جماعتوں تک پہنچ سکیں گے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ : اس لئے کرسیاں بچھائی ہوئی ہیں۔نماز کے وقت اٹھا دیتے