خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 331

خطبات طاہر جلد ۹ 331 خطبه جمعه ۱۵/جون ۱۹۹۰ء چونکہ روس نے ایسے تعلق کی اجازت نہیں دی اور اس زمانے میں خاص طور پر تی تھی کہ ہندوستان سے کوئی علاقہ نہ رکھا جائے کیونکہ وہ انگریزی حکومت کے تابع تھا اس لئے اس بات پر پردہ ڈالنے کے لئے انہوں نے یہ کہانی بنالی ہے کہ مرکزی امام نے ہدایت کی تھی کہ تم یہ رابطے نہ رکھو۔جو مضمون حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شائع ہوا ہے اور ہندوستان میں بہار کے ایک احمدی دوست نے مجھے بھجوایا ہے اس سے مزید اس بات پر روشنی پڑتی ہے کہ امام جماعت احمدیہ کو بشدت روسی جماعتوں سے تعلق قائم کرنے کی ایک بے پناہ تمنا تھی۔اور ایسی تمنا تھی جو دل کو کریدتی رہتی تھی کہ کسی طرح ان جماعتوں سے میرا تعلق قائم ہو جائے۔لیکن روسی حکومت کی سختیوں کی وجہ سے اس زمانے میں ایسا تعلق قائم کرنا ممکن نہیں تھا۔یہ مضمون ۱۴ اگست ۱۹۲۳ء کے الفضل میں شائع ہوا ہے۔اس لئے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مقالہ نگار نے جو لکھا ہے کہ ۱۹۲۰ء کے دھا کے آخری عرصے میں“ یہ درست نہیں ہے کیونکہ ۱۹۲۳ء سے پہلے خدا تعالیٰ کے فضل سے روس میں جماعتیں قائم ہو چکی تھیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے یہ با قاعدہ مضمون کی صورت میں الفضل میں چھپوایا۔اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمُدهِ، وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ بولشویک علاقہ میں احمدیت کی تبلیغ اس کے نیچے فارسی کا ایک شعر ہے۔الله الحمد هر آن چیز که خاطر میخواست آخر آمد زپس پرده تقدیر پدید کہ کتنی اللہ کی حمد ہو۔کیسا کیسا اللہ کا شکر ہو کہ ہر وہ چیز جس کا میرا دل خواہاں تھا آخر پر وہ تقدیر کے پیچھے سے ظاہر ہوگئی۔۱۹۱۹ عیسوی کا واقعہ ہے جسے میں پہلے بھی بعض مجالس میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک احمدی دوست اللہ تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے جو انگریزی فوج میں ملازم تھے اپنی فوج کے ساتھ ایران میں گئے۔وہاں سے