خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 333

خطبات طاہر جلد ۹ 333 خطبه جمعه ۱۵/جون ۱۹۹۰ء ہیں۔ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں۔اس پر اس دوست کا بیان ہے کہ مجھے خیال ہوا کہ چونکہ یہ مذہبی آدمی ہیں ان کو تبلیغ کروں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں کو کہا کہ آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں یا فوت ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح اور انبیاء فوت ہو گئے ہیں اسی طرح وہ فوت ہو گئے ہیں۔اس پر میں نے پوچھا کہ ان کی نسبت تو خبر ہے کہ وہ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہاں اسی امت میں سے ایک شخص آجائے گا۔اس پر میں نے کہا کہ یہ عقیدہ تو ہندوستان میں ایک جماعت جو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو مانتی ہے اس کا ہے۔اس پر ان لوگوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ بھی انہی کے ماننے والے ہیں۔فتح محمد صاحب نے جب یہ باتیں اس نو احمدی سے سنیں تو دل میں شوق ہوا کہ وہ اس امر کی تحقیق کریں۔اتفاقاً کچھ دنوں بعد ان کو بھی آگے جانے کا حکم ہوا اور وہ روسی عشق آباد میں گئے۔وہاں انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ کیا یہاں کوئی احمدی لوگ ہیں۔لوگوں نے صاف انکار کیا اور یہ بھی یا درکھئے کہ خاص طور پر عشق آباد کا علاقہ ہے۔لوگوں نے صاف انکار کیا کہ یہاں اس مذہب کے آدمی نہیں ہیں۔جب انہوں نے یہ پوچھا کہ عیسی علیہ السلام کو وفات یافتہ ماننے والے لوگ ہیں تو انہوں نے کہا کہ اچھا تم صابیوں کا پوچھتے ہو۔آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والوں کو بھی اس زمانے کے منکرین صابی کہا کرتے تھے۔یعنی ایک نیا مذ ہب ایجاد کرنے والے، ایک نئے مذہب سے تعلق رکھنے والے۔اچھا تم صابیوں کا پوچھتے ہو۔وہ تو یہاں ہیں۔چنانچہ انہوں نے ایک شخص کا پتا بتایا وہ درزی کا کام کرتا ہے اور پاس ہی اس کی دوکان ہے۔یہ اس کے پاس گئے اور اس سے حالات دریافت کئے۔اس نے کہا کہ ہم مسلمان