خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 282 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 282

خطبات طاہر جلد ۹ 282 خطبه جمعه ۱۸ارمئی ۱۹۹۰ء گے لیکن جس طرح خزاں کے موسم میں بھڑوں کے ڈنگ جھڑ جاتے ہیں اور نیش زنی کرنے سے عاجز آجاتے ہیں۔یہ نہیں کہ ان کا دل نہیں چاہتا۔پنجابی میں ہم تو ان کو دو گا“ کہا کرتے تھے۔اردو میں مجھے علم نہیں لیکن وہ الفاظ جو الہام کے وہاں لکھے ہوئے ہیں وہ ” دو گئے“ کے لفظ ہی لکھے ہوئے ہیں اور وہ مضمون تو بالکل یہی ہے الفاظ ممکن ہے آگے پیچھے ہو چکے ہوں ذہن میں پوری طرح وہ یاد نہ رہے ہوں۔وہ یہ تھے کہ مولوی تو اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے اور ڈنگ مارتے چلے جائیں گے لیکن خدا کی تقدیر ان کو دوگا کر دے گا اور ڈنگ مارنے کی طاقت ان سے جاتی رہے گی۔پس یہ وہ خوشخبری ہے جو میں دیکھ رہا ہوں کہ لازماً اس کے پورا ہونے کے دن آرہے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر عطا فرمائی ہے اور میں نہیں جانتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات میں ان الفاظ میں کوئی پیشگوئی تھی یا نہیں تھی مگر جس رنگ میں خدا نے مجھے یہ خبر دی ہے یہ مضمون ضرور کہیں موجود ہے۔پس ان مولویوں کو میں یہ کہتا ہوں کہ جو زور تم سے لگتا ہے لگاتے چلے جاؤ اور دعائیں کرو اور گریہ وزاری کرو اور اس کی توفیق نہیں تو گالیاں بکتے چلے جاؤ ہر قسم کی سازشیں کرو مگر میرے خدا نے یہ فیصلہ کر لیا ہے اور جماعت احمدیہ کے خدا نے یہ فیصلہ کر لیا ہے اس کی تقدیر تمہارے ڈنگ نگال دے گی اور جماعت کو بالآخر تمہارے آزاروں سے نجات بخشی جائے گی۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا آج چونکہ جمعہ کے بعد ایک سفر پر روانہ ہونا ہے اس لئے جمعہ کی نماز کے ساتھ ہی عصر کی نماز بھی جمع ہوگی۔