خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 281
خطبات طاہر جلد ۹ 281 خطبه جمعه ۸ ارمئی ۱۹۹۰ء کر دینے کے لئے دعائیں کرو جڑوں سے اکھیڑ پھینکنے کے لئے دعائیں کرو۔پھر اگر میں کا ذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہوں گی اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں لیکن یا درکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعا ئیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گریہ وزاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی یہ دعائیں سن نہیں جائیں گی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں۔جو شخص میرے پر بددعا کرے گا وہ بددعا اس پر پڑے گی۔جو شخص میری نسبت یہ کہتا ہے کہ اس پر لعنت ہو وہ لعنت اسی کے دل پر پڑتی ہے مگر اس کو خبر نہیں۔‘ اربعین روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۴۷۲۰) پس یہی ایک طریق رہ گیا ہے۔علماء کی سرشت کو میں جانتا ہوں اور باوجود اس کے کہ جس طرح یہ نصیحت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کامل خلوص سے اللہ کی تھی میں بھی اسی طرح عاجزانہ غلامی کے رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کرتے ہوئے اسی طرح خلوص اور عجز کے ساتھ اور تقویٰ کے ساتھ کر رہا ہوں لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ان علماء کی سرشت کو ہم جانتے ہیں۔یہ اس طرف متوجہ نہیں ہوں گے اور شرارت سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔قوم پر جو بلا ٹوٹ جائے ، جو قیامت گزر جائے ان کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔انہوں نے اپنی ضد اور بیبا کیوں سے باز نہیں آنا اور یہ اسی طرح فساد اور فتنے میں مبتلا ر ہیں گے لیکن میں آج یہ بھی ان کو بتانا چاہتا ہوں اور جماعت احمدیہ کو یہ خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایک عظیم الشان خوشخبری عطا کی ہے۔جس کے پورا ہونے کے دن آچکے ہیں۔میں نے چند دن ہوئے رویا میں دیکھا کہ تذکرہ میرے سامنے کھلا پڑا ہے اور اس کے ایک طرف ایک پیراگراف ہے جس پر میری نظریں مرکوز ہیں اور میرے ذہن میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پیشگوئی ہے جس کے پورا ہونے کے دن آچکے ہیں اور وہ پیشگوئی میں پڑھتا ہوں اس میں سے سب سے مرکزی بات جس پر میری نظر اٹک جاتی ہے اور وہ طرز بیان دل کو بہت ہی لذت پہنچاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ علماء اپنی مخالفت سے باز نہیں آئیں گے اور جس طرح دکھ اور آزار پہنچانے کے لئے دن رات کوشش کر رہے ہیں اسی طرح کرتے چلے جائیں