خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد ۹ 279 خطبه جمعه ۱۸ارمئی ۱۹۹۰ء ہوں ، بڑی عاجزی کے ساتھ ان کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اگر وہ اپنی عاقبت کی خیر چاہتے ہیں اگر وہ ملک کی عاقبت کی خیر چاہتے ہیں اگر وہ اسلام سے کچھ معمولی سی بھی محبت رکھتے ہیں تو مخالفت بے شک کریں لیکن اسلامی طرز کی مخالفت کریں۔اس محمد مصطفی امیہ کے صدقے میں ان سے یہ التجا کرتا ہوں کہ مخالفت ویسی کریں جیسے حضرت محمد مصطفی ﷺ اپنے مخالفوں کی کیا کرتے تھے۔یہ میں نہیں کہتا کہ آنحضرت ﷺ ان کے ہیں، ہرگز میرا یہ کہنے کا مطلب نہیں۔جو نقشہ میں نے کھینچا ہے اس کے بعد یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺے ان کے ہیں یہ تو بڑا ظلم ہوگا۔میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ہمارے ہیں پس اس دعوی کی شرم رکھیں اور مخالفت بھی کرنی ہے تو سنت مصطفیٰ کے مطابق مخالفت کریں پھر ہمیں کوئی عذر نہیں۔پھر خدا کی تقدیر کے حوالے کریں جو بھی فیصلہ خدا کی تقدیر کرے گی اس پہ ہم راضی ہیں اور ساری دنیا کو اس پر راضی ہونا پڑے گا۔الله حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان مخالفتوں کا ذکر کرتے ہوئے اسی رنگ میں علماء کو کچھ نصیحتیں کی تھیں کچھ امور کی طرف ان کو متوجہ کیا تھا اس لئے آپ کے الفاظ میں یہ اقتباسات پڑھ کر میں آج کے اس خطبے کو ختم کروں گا۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ اپنی تائیدات اور اپنے نشانوں کو ابھی ختم نہیں کر چکا اور اسی کی ذات کی مجھے قسم ہے کہ وہ بس نہیں کرے گا جب تک میری سچائی دنیا پر ظاہر نہ کر دے۔پس اے تمام لوگو! جو میری آواز سنتے ہو خدا کا خوف کرو اور حد سے مت بڑھو اگر یہ منصوبہ انسان کا ہوتا تو خدا مجھے ہلاک کر دیتا اور اس تمام کا روبار کا نام ونشان نہ رہتا مگر تم نے دیکھا ہے کہ کیسی خدا تعالیٰ کی نصرت میرے شامل حال ہو رہی ہے اور اس قدر نشان نازل ہوئے جو شمار سے خارج ہیں۔دیکھو کس قدر دشمن ہیں جو میرے ساتھ مباہلہ کر کے ہلاک ہو گئے۔اے بندگان خدا ! کچھ تو سوچو کیا خدا تعالیٰ جھوٹوں کے ساتھ ایسا معاملہ کیا کرتا ہے؟“ پھر فرماتے ہیں: کون جانتا تھا اور کس کے علم میں یہ بات تھی کہ جب میں ایک