خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 278

خطبات طاہر جلد ۹ 278 خطبه جمعه ۸ ارمئی ۱۹۹۰ء جہاد کیا وہ تمہارے اندر قائم ہو چکی ہے، راسخ ہو چکی ہے اور باتیں کرتے ہو کہ ہم اسلام کے نام پر قائم ہوئے تھے۔وہ تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ جنگ مسلمان اور غیر مسلم کی جنگ نہیں ہے ان کا مقصد تو یہ تھا کہ دنیا کو یہ بتائیں کہ مسلمان ممالک بیجا پاکستان کی حمایت نہ کریں کیونکہ ہرگز یہاں اسلام اور غیر اسلام کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ ایک غیر اسلامی اقدار میں ہندوستان سے آگے بڑھے ہوئے ملک کا ایک ایسے غیر مسلم ملک سے مقابلہ ہے جو نسبتا اسلامی اقدار سے کچھ زیادہ تعلق رکھتا ہے اگر چہ اسلام کے نام پر نہ بھی ہو یعنی یہ موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن مسلمان کے لئے ایک ہندو ملک کی ایمبیسی (Embassy) کی طرف سے شائع ہو نیوالا یہ لٹریچر تو ایسا لٹریچر ہے کہ وہ شرم سے کٹ مرے۔پس اس لحاظ سے دونوں ملکوں کا تمام دنیا پر ایک احسان ہے اس احسان کو یا در کھتے ہوئے ہندوستان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ملک کے باشندوں سے انصاف اور تقویٰ کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے ہی ملک کے باشندوں کے حقوق ان کو دینے کا حوصلہ عطا کرے اور ظلم اور سفاکی سے ان کے ہاتھ روکے۔وہاں پاکستان کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ یہ جو موجودہ حالات ہیں ان حالات میں تو یہ ملک بچتا ہوا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے نام پر اور خدائے واحد و یگانہ کے نام پر یہ ملک مانگا گیا تھا اور یہ ملک حاصل کیا گیا تھا اس لئے یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہوش عطا کرے۔واپس اسلامی قدروں کی طرف لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے اور سب سے بڑی دعا کہ ملاں کی نحوست سے ان کو نجات عطا فرمائے۔(آمین) جہاں تک مولویوں کا تعلق ہے وہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں آج بھی اسی طرح مصروف ہیں جس طرح پہلے مصروف تھے ان کو پتہ ہی نہیں کہ باہر دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ان کو یہ بھی پتا نہیں کہ پاکستان کے اندر کیا ہورہا ہے۔صرف ایک رٹ ہے کہ نام کی اسلامی شریعت کی حکومت قائم ہو جائے اور جماعت احمدیہ کے خلاف فتنہ و فساد، افتراء پردازی، جھوٹ ، دنگا، سازشیں یہی ان کی زندگی کا مقصد ہیں اس میں مبتلا رہتے ہوئے ، اس نشے میں مست وہ اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں۔انہوں نے اپنی ہر کوشش کر دیکھی ہے یہاں تک کہ آج ساری قوم کے لئے وہ خطرہ بن چکے ہیں۔اس لئے میں نصیحتاً ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں یہ بتاتا