خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 280
خطبات طاہر جلد ۹ 280 خطبه جمعه ۱۸ارمئی ۱۹۹۰ء چھوٹے سے بیج کی طرح بویا گیا اور بعد اس کے ہزاروں پیروں کے نیچے کچلا گیا اور آندھیاں چلیں اور طوفان آئے اور ایک سیلاب کی طرح جو شور بغاوت میرے اس چھوٹے سے تخم پر پھر گیا پھر بھی میں ان صدمات سے بچ جاؤں گا۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۲ ۶۳) ( یعنی کون جانتا تھا کہ اس سب کے باوجو د میں ان صدمات سے بچ جاؤں گا ) سو وہ تم خدا کے فضل سے ضائع نہ ہوا بلکہ بڑھا اور پھولا اور آج وہ ایک بڑا درخت ہے جس کے سایہ کے نیچے تین لاکھ انسان آرام کر رہا ہے۔“ پھر آخر پر حضور نصیحۂ علماء کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔یعنی ان مخالف علماء کو جنہوں نے اپنی زندگیاں احمدیت کو نیست و نابود کرنے کے لئے وقف کر رکھی ہوئی تھیں اور آج بھی کی ہوئی ہیں۔میں نصیحیہ للہ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی ! لیکن اگر مجھے آپ لوگ کا ذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بددعائیں کریں اور روروکر میرا استیصال چاہیں 66 ضمیمه اربعین روحانی خزائن جلد ۷ اصفحہ ۴۰۳ ۴۰۴۷) یعنی بجائے اس کے کہ تم گند بکنے میں، سازشوں میں ، فتنہ پردازیوں میں حد سے بڑھ جاؤ جیسا کہ بڑھ بھی چکے ہو۔میں تمہیں ایک اور طریق بتاتا ہوں اگر تمہیں خدا پر ایمان ہے اور خدا کی خاطر تم مخالفت کر رہے ہو تو دعاؤں سے کام کیوں نہیں لیتے۔مسجدوں سے نکل کر گلیوں اور گھروں میں فساد برپا کرنے کی خاطر جو بھڑک بھڑک کر نکلتے ہو واپس مسجدوں کولوٹو اور مسجدوں میں خدا کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤ اور دعائیں کرو کہ اے خدا ! یہ وہ شخص ہے جو ظالم ہے جس نے ایک ظالم جماعت پیدا کی ہے اور جو تیرے ہی دشمن لوگ ہیں۔ہم بھی ان کے دشمن تیری خاطر ہیں پس تو ہماری مددفر ما اور ان کو نیست و نابود کرنے میں آسمان سے کارروائی کر کیونکہ ہماری زمین کی کاروائیاں تو بالکل ناکام و نامراد ہو چکی ہیں۔یہ مراد ہے کہ اس رنگ میں تم دعائیں کرو استیصال چاہو“۔یعنی مجھے کلیہ ملیا میٹ