خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 252
خطبات طاہر جلد ۹ 252 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۹۰ء حرکت ہونا ضروری ہے۔پس ان دو پہلوؤں سے اپنی نمازوں کو جانچیں اور یہ دونوں پہلو خدا تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں اور کھول کر بیان فرمائے ہیں۔۔آپ کی نماز ایک محنت ہے۔اس محنت کے نتیجے میں آپ کو یسر نصیب ہونا چاہئے اور ٹیسر انسانی اخلاق کا سر بھی ہے۔آپ کے اندر جو تیزی اور ترشی پائی جاتی ہے وہ سر ہے۔اس کے مقابل پر جب اخلاق درست ہو جائیں اور مزاج کا میزان درست ہو جائے۔مزاج اعتدال پر آجائے تو آپ خود محسوس کریں گے کہ آپ پہلے کی نسبت زیادہ ہلکے پھلکے وجود بن گئے ہیں تو عام پہچان عبادت کی مقبولیت کی یہ ہے کہ آپ کے اندر ایسی پاک اخلاقی تبدیلیاں پیدا ہوں کہ آپ زیادہ اعلیٰ درجے کے انسان بننا شروع ہو جائیں اور اس پاک تبدیلی کو اپنی ذات میں محسوس کرنے لگیں اگر ایسا نہیں کریں گے تو آپ کی عبادت صرف محنت ہے اور اس کا پھل آپ کو نصیب نہیں ہورہا۔دوسرا یہ کہ عبادت میں اگر پہلے لذت نہیں تو لذت کی کچھ جھلکیاں آنی شروع ہو جائیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے عبادت کے ایک حصے کا حق ادا کیا۔یا د رکھیں کہ اگر آپ امین ہیں تو خدا سب سے بڑھ کر امین ہے۔یہ ناممکن ہے کہ آپ خدا کی خاطر عسر اختیار کریں اور امانت کا حق ادا کر رہے ہوں۔جتنی محنت کر رہے ہیں خدا کی خاطر اس کی جانب کر رہے ہوں اخلاص کے ساتھ اس کی طرف رخ کرتے ہوئے کر رہے ہوں اور آپ کو ٹیسر نصیب نہ ہو آپ کو آسانی بھی نہ ملے، یہ ناممکن ہے۔وہی خدا جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کا خدا تھا وہی آپ کا خدا ہے جس نے ان کی عبادت کے متعلق فرمایا۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ تو جب خدا کی راہ میں کھڑا ہوگا تو ہمیشہ رغبت پائے گا۔ایک لمحہ بھی تجھے ایسا نصیب نہیں ہوگا کہ جو رغبت سے عاری ہو۔پس اسی خدا نے آپ سے بھی سلوک فرمانا ہے اس لئے اپنی رغبتوں کو کسوٹی بنالیں یہ جانچنے کی کہ کس حد تک آپ خدا کی عبادت کے حق ادا کر رہے ہیں۔اس پہلو سے پھر آئندہ نسلوں کو بھی سمجھانا شروع کریں اپنے گردو پیش کو سمجھانا شروع کریں اور اگر کچھ پیش نہ جائے ، کچھ سمجھ نہ آئے تو اس کا جیسا کہ میں نے علاج بتایا تھا وہ بھی لفظ رغبت میں رکھا گیا ہے۔دل کو ٹولیں آپ کے اندر محبت کی کمی ہے۔محبت کے بغیر رغبت نصیب نہیں ہو سکتی۔جو شخص اپنے دنیاوی محبوب سے ملنے کیلئے محنت کرتا ہے اس کے لئے یہ وقت کہ آج سردی کی کڑی رات ہے یا گرمی کی کڑی رات ہے، یہ محبوب