خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 253
خطبات طاہر جلد ۹ 253 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۹۰ء سے ملنے کی لذت میں کمی نہیں پیدا کرسکتی۔یہ دقتیں اپنی جگہ ہوں گی لیکن جس کو سچا پیار ہو گا اس کو اپنے محبوب سے چاہے وہ گرمی کی تپش میں ملاقات ہو یا سردی کی انتہاء میں ملاقات ہو، لا ز ما لذت ملے گی اور اس کے لئے پھر لوگ بڑی بڑی محنتیں بھی کرتے ہیں۔راتیں جاگ کر گزارتے ہیں، کئی جو صبح دیر سے اٹھنے والے ہیں ایسے بھی ہیں جو عبادت کی بجائے دنیاوی محبوبوں کے لئے جاگ کے راتیں گزار رہے ہوتے ہیں ، صبح پھر وقت پر اٹھا نہیں جاتا لیکن لذت تو ملتی ہے۔کم سے کم وہ امین ہیں، دنیاوی محبتوں کے ضرورامین ہیں تو آپ خدا کی محبتوں کے امین بنے بغیر کیسے لذت حاصل کر لیں گے۔پس وہ امانت کا حق یہی ہے کہ آپ اس سے پیار کا جذ بہ اپنے اندر پیدا کریں اور اگر نہیں ہے تو فکر کریں اور وہ رستے تلاش کریں جن سے خدا تعالیٰ کا پیار پیدا ہوتا ہے۔جیسا کہ میں پہلے اس مضمون پر روشنی ڈال چکا ہوں ، صرف بیداری اور شعور کی ضرورت ہے۔چاروں طرف سے خدا کی رحمتوں نے آپ کو گھیرا ہوا ہے، کوئی لمحہ ایسا نہیں جب آپ خدا کی رحمتوں کے نزول سے عاری ہوں، صرف احساس اور شعور ہے۔یہ پیدا ہونا شروع ہو جائے تو پیار کا احساس بھی بڑھتا چلا جائے گا اور جب محبت پیدا ہو جائے تو پھر خشک نصیحتوں کی ضرورت باقی نہیں رہا کرتی۔پھر ایک طبعی نتیجے کے طور پر آپ کی عبادتوں میں سرور پیدا ہو جائے گا۔آپ کے ذکر الہی میں ایک گرمی پیدا ہو جائے گی۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو عبادت کے مناسب حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔پر جانا ہے۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: آج جمعہ کی نماز کے ساتھ عصر کی نماز بھی ادا کریں گے کیونکہ میں نے بعد میں ایک جگہ سفر