خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 232

خطبات طاہر جلد ۹ 232 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء جب اس جیسا ہے کوئی نہیں تو اس کا در چھوڑ کر جائے گا کہاں؟ جو تعلق اس سے باند ھے اس کو پکڑ کر بیٹھ رہے اور پھر کبھی اس سے علیحدہ نہ ہو۔پس یہ جمعہ جو رمضان کا آخری جمعہ ہے یقینا برکتوں والا دن ہے اور تمام سال کے دنوں میں ایک غیر معمولی عظمت اور شان اور امتیاز رکھتا ہے لیکن انہیں کے لئے جو اس جمعہ میں جو برکتیں حاصل کرتے ہیں ان کو پھر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور صبر اختیار کرتے ہیں۔صبر کا مضمون استقلال کو بھی ظاہر کرتا ہے اور ایک اور پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جسے سمجھانا ضروری ہے۔بعض ہمارے احمدی دوست جو عبادات کی طرف متوجہ ہیں اور ان کو جلدی پھل نہیں لگتا۔وہ بعض دفعہ بہت بے چین ہو جاتے ہیں ، بعض تو پھر یہاں تک غلو کرتے ہیں کہ ہم نے تو اتنی دیر عبادتیں کی ہیں ہمیں مزہ ہی نہیں آیا ، عبادتوں کو پھل ہی نہیں لگ رہا، دعائیں قبول نہیں ہور ہیں۔جو روح میں خدا کی طرف ایک قسم کا تموج پیدا ہونا چاہئے اور اس کے نتیجے میں جو لذت حاصل ہوتی ہے اس سے ہم عاری ہیں تو ہم تو اب تھک کے سمجھتے ہیں کہ یوں کوشش بے کار ہے۔یعنی بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے یہاں تک لکھا۔لیکن اکثر ایسے ہیں جو بڑی عاجزی اور تذلل سے اپنی فکروں کو میری طرف منتقل کرتے ہوئے دعا کی تحریک کرتے ہیں۔کہتے ہیں ہمیں بچاؤ خدا کے لئے کچھ کروایسی دعا کرو کہ ہمارا دل بھی جاگ اٹھے ہماری عبادتیں بھی زندہ ہو جائیں تو ان کے لئے قرآن کریم یہ پیغام دے رہا ہے کہ عبادت کے ساتھ صبر کا مضمون وابستہ ہے۔ہر شخص کی پختگی کے لئے ایک وقت درکار ہوا کرتا ہے اور ہر شخص کے لئے وہ وقت الگ الگ ہوا کرتا ہے۔کسی نے سفر کہاں سے شروع کیا ہے اور کسی کی اندرونی صلاحیتیں کیا ہیں یہ دو مضمون ہیں جومل کر اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ کب عبادت اپنی اس چھنگی کو پہنچے گی کہ اس کے شیر میں پھل انسان کو لذت سے بھر دیں گے۔ایک انسان ہے جو بہت سے اندرونی گناہوں میں ملوث ، بہت دیرینہ خطاؤں میں مبتلا اور کئی پردوں میں چھپا ہوا ہے۔وہ چاہتا ہے کہ میں ایک دن عبادت کر کے ایک دم شور ڈال کر خدا تعالیٰ کو راضی کرلوں اور اچانک مجھے خدا تعالیٰ کا دیدار نصیب ہو جائے۔اس وقت کی اس کی کیفیت یقیناً بڑی سخت بے قراری کی کیفیت ہوگی لیکن وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا (طہ:۱۳۳) کا مضمون یہ بتاتا ہے کہ عبادت کو فوری طور پر لازماً پھل نہیں لگا کرتا۔بہت سے لمبے ایسے دور سے گزرنا ہوگا جس میں انسان پہلے اپنے نفس کی آگاہی حاصل کرے اپنی کمزوریوں کا عرفان حاصل