خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 233
خطبات طاہر جلد ۹ 233 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء کرے، اس عرفان کو پھر عرفان الہی کے راستوں پر منتقل کرے اور اپنے عرفان کے رستے سے خدا کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرے۔پھر رفتہ رفتہ اس کی عبادت میں ایک نئی تازگی پیدا ہونی شروع ہو جائے گی۔اس کی عبادت میں زندگی کے آثار ظاہر ہوں گے اور اس کی عبادت میں مزے کی کیفیت پیدا ہو جائے گی لیکن یہ لمبے غور فکر اور مجاہدے کا مضمون ہے۔اس سے تھکنا نہیں چاہئے اگر صبر کی طاقت نہیں ہے تو پھر عبادت کی بھی طاقت نہیں۔پس لازماً عبادت کا صبر کے ساتھ اور استقلال کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے اور یہ مضمون یاد رکھنا چاہئے کہ اگر خدا کی عبادت میں کچھ نہیں ملا تو پھر بھی اسے چھوڑ کر جانے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا پھر اور کون ہے جو خدا کے سوا تمہیں عبادت کے قابل دکھائی دیتا ہے۔پس تمہارے لئے تو چارا ہی کوئی نہیں بے اختیاری کا عالم ہے۔وہی واقعہ جو میں پہلے بھی آپ کو سنا چکا ہوں لاہور کے ایک درویش کا یاد آ جاتا ہے۔اس موقعہ پر بیان کے لائق بہت موزوں ہے۔ایک درویش تھا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک دن اس نے ترنگ میں آکر خدا سے یہ عرض کی کہ اے خدا مجھے تیری دنیا پسند نہیں آئی اور یہ کہہ کر وہ باہر بازاروں میں کودتا اچھلتا ہوا نکلا اور اعلان کرنا شروع کیا کہ ہم نے خدا کو کہہ دیا جو کہنا تھا اور بڑا ہی خوش دکھائی دیتا تھا۔کسی نے پوچھا کہ تم نے خدا کو کیا کہا ہے کیوں اتنے خوش ہورہے ہو اس نے کہا کہ میں نے تو خدا کو صاف کہہ دیا ہے کہ مجھے تیری دنیا پسند نہیں آئی۔کچھ دن کے بعد اس کو پھر بازاروں میں دیکھا گیا اور نہایت ہی مضمحل، پژمردہ سر نیچے پھینکا ہوا بے حداد اس۔کسی نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے آج کیوں تم اتنے اداس ہو؟ اس نے کہا کہ جواب آ گیا ہے۔کہا۔کیا جواب آیا ہے؟ جواب یہ آیا ہے کہ پھر جس کی دنیا پسند آتی ہے اس میں چلے جاؤ۔چھوڑ دو میری دنیا اگر پسند نہیں اور ہے ہی کوئی نہیں۔هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا میں یہ پیغام ہے۔کہ اے عبادت سے تھک جانے والو! اے جلدی ہمت ہار دینے والو! اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہاری عبادت کو پھل نہیں لگ رہے۔اس لئے تم اس عبادت کو چھوڑ دو تو پھر چھوڑ کے جاؤ گے کہاں؟ خدا کے سوا بھی کوئی ذات سنی ہے جو اس جیسی ہو۔اگر یہ رحمان و رحیم یہ رحیم و کریم خدا تمہارے دل کے لئے جیتا نہیں جاسکتا تو پھر دنیا میں اور کوئی ذات تمہارے لئے جیتی نہیں جاسکے گی۔پس جو زور لگانا ہے اس در پر لگاؤ ، جو سجدے بھرنے ہیں اسی آستانے پر بھرو اور اپنی پیشانی کو یہیں رگڑو اس کے سوا اور کوئی جگہ نہیں ہے۔یہ مضمون قرآن کریم نے