خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 231
خطبات طاہر جلد ۹ 231 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء والا رنگ رکھتی ہو جیسے جمعتہ الوداع کا ایک تصور پایا جاتا ہے کہ سال کے بعد آئے گا اور آتے ہی چودہ طبق روشن کر کے ہمیشہ کی غفلتوں کی تلافی کرتے ہوئے یہ جمعہ اپنے استحقاق کے لحاظ سے رخصت ہو جائے گا۔یعنی پھر اس جمعہ کے حق ادا کرنے کے لئے پھر ہمیں کسی محنت کی ضرورت نہیں۔یہ ایسا جمعہ ہے کہ جو آئے گا اور جس طرح ایک پیروں اور فقیروں کا تصور ہے کہ آئے اور دو جہان بخش گئے اس طرح یہ جمعہ دو جہان بخش کے چلا جائے گا۔یہ تصور بالکل جاہلانہ اور غیر اسلامی ہے اور قرآن کریم سے اس کی کوئی سند نہیں ملتی۔قرآن کریم سے یہ سند ملتی ہے کہ اس جمعہ میں یا اس برکت والی رات میں جو اس جمعہ کی رات کو بھی ہو سکتی ہے اور آخری عشرے میں کوئی اور رات بھی ہوسکتی ہے۔ایسی گھڑی ضرور انسان کو نصیب ہوسکتی ہے جو اس کے دین و دنیا سنوار دے مگر ان معنوں میں نہیں کہ فقیر نے کچھ دے دیا کہ جاؤ اب چھٹی کرو جو چاہے کرتے پھرو بلکہ ان معنوں میں کہ جو کچھ سدھارے اس کو پھر قائم رکھے۔ایک تبدیل شدہ وجود پیدا کرے اور وہ تبدیلیاں ایسی ہوں کہ پھر دوبارہ مائل بہ انحطاط نہ ہو سکیں۔وہ رفعتیں جو وہ جمعہ یا وہ لمحے بخش جائیں، جو لیلۃ القدر کے بعض لمحے بخشتے ہیں وہ ایسی پاک تبدیلیاں ہیں کہ جو آکر ٹھہر جانے والی ہیں۔مستقل وجود پر نقش ہو جانے والی ہیں۔وہ وصل کی تبدیلیاں ہیں وداع کی تبدیلیاں نہیں۔پس دنیا کے اکثر لوگوں کے لئے یہ جمعہ وداع کہہ کر رخصت ہو جا تا ہوگا مگر وہ جن کے لئے یہ وصل کا پیغام لاتا ہے وہ ان سے پھر کبھی جدا نہیں ہوتا۔یہ وہ استقامت کا مفہوم ہے جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمیشہ عبادت اور وصل الہی کے مضمون کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔قرآن کریم بھی اس مضمون کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔رَبُّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدُهُ (مریم: ۲۶) قرآن کریم فرماتا ہے جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ مضمون سیکھا ہے اور قرآن کریم ہی میں آپ کے کلام کی بنیاد ہے۔تو قرآن کریم فرماتا ہے۔رَبُّ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَه فَاعْبُدُهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہ وہ زمین اور آسمان کا رب ہے جو تمہارا رب ہے وَمَا بَيْنَهُمَا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کا بھی رب ہے۔فَاعْبُدُهُ اس کی عبادت کر۔وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِ، اور اس کی عبادت پر صبر اختیار کر۔هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا کیا تو اس جیسی کسی اور ذات کو جانتا ہے۔کیا کبھی تو نے سنا ہے کہ خدا جیسی بھی کوئی اور ذات کا ئنات میں موجود ہے۔پس