خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 229

خطبات طاہر جلد ۹ 229 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء میں رضا اور وفا پیدا ہو۔اس مضمون کو نسبتاً زیادہ کھولتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک اور جگہ آنحضور ہے کے اس پہلو سے وسیلہ ہونے کا ذکر یوں فرماتے ہیں۔۔”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبد بھی ہے اور اس لئے خدا نے عبد نام رکھا کہ اصل عبودیت کا خضوع اور ذلت ہے“ یعنی خضوع کا معنی ہے عاجزی اور ذل کا معنی ہے بالکل اپنے آپ کو گرا دینا۔لاشئی محض سمجھنا، اپنے آپ کو بالکل چھوٹا بنادینا۔” اور عبودیت کی حالت کا ملہ وہ ہے جس میں کسی قسم کا غلو اور بلندی اور تُجب نہ رہے۔“ یعنی اگر خدا کی عبودیت اختیار کرنی ہے تو یہ لازم ہے کہ آپ کی ذات میں کسی قسم کی کوئی بلندی، خود پسندی، کوئی ریا کاری وغیرہ باقی نہ رہے۔اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تحمیل محض خدا کی طرف سے دیکھئے اور انسان یہ بھی محسوس کرے کہ جو کچھ مجھے حاصل ہورہا ہے۔وہ اللہ کی طرف سے ہو رہا ہے۔میری کوششوں سے حاصل نہیں ہو رہا۔۔پس یہ وہی مضمون ہے جس کو آپ نے فرمایا۔جو خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے آنحضرت ﷺ میں پیدا ہوئی۔فرماتے ہیں اور صاحب اس حالت کا اپنی عملی تحمیل محض خدا کی طرف سے دیکھے اور کوئی ہاتھ درمیان نہ دیکھے۔عرب کا محاورہ ہے۔وہ کہتے ہیں۔مورٌ مُعَبَّدٌ وَطَرِيقٌ مُعَبَّدٌ۔جہاں راہ نہایت درست اور نرم اور سیدھا کیا جاتا ہے اس راہ کو الله طریق معبد کہتے ہیں۔پس آنحضرت ﷺ اس لئے عبد کہلاتے ہیں کہ خدا نے محض اپنے تصرف اور تعلیم سے ان میں عملی کمال پیدا کیا اور ان کے نفس کو راہ کی طرح اپنی تجلیات کے گزرنے کے لئے نرم اور سیدھا اور صاف کیا“ ایام اصلح روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۹۴) اب یہ دیکھیں کہ وسیلہ کی کیسی اعلیٰ تعریف ہے اور کیسی کامل تعریف ہے۔وسیلہ وہ ہوتا ہے جو ایک چیز کو دوسرے سے ملا دیتا ہے۔جیسے پلد ریا کے عبور کرنے کا وسیلہ بن جاتا ہے۔