خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 228 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 228

خطبات طاہر جلد ۹ 228 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء ان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو اس بات میں قطعاً ایک ذرہ بھی باک نہیں تھی کہ وہ خدا کا بندہ کہلائیں لیکن خدا نے خود کسی کو عبد اللہ کا لقب دیا ہو اس کی اور کوئی مثال دکھائی نہیں دیتی۔مجھے ایک زمانے میں موازنہ مذاہب کا شوق تھا۔مختلف مذاہب کا مطالعہ کیا۔ہوسکتا ہے کہ میرے علم میں نہ آیا ہو مگر میرے علم میں جہاں تک میں نے دیکھا کسی اور نبی کی کتاب میں اس کے لئے یہ لقب نظر نہیں آیا کہ خدا نے اسے مخاطب کر کے عبد اللہ فرمایا ہو۔ہاں عبادت کے دعویدار انبیاء جیسا کہ ہونا چاہئے تھا اور بندہ ہونے کے دعویدار موجود تھے عبد کے دوسرے معنوں میں لیکن خدا کی طرف سے عبداللہ کا لقب نصیب ہونا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ ہی کے حصے میں تھا۔پس وسیلے کا مضمون چل رہا تھا وسیلے کا ایک پہلو میں نے آپ کو گزشتہ خطبے میں دکھایا کہ وہ بندوں کے ساتھ عاجزی ہے جب تک بندوں کے ساتھ انسان کی عاجزی مستحکم نہ ہو جائے اور مستقل رنگ نہ اختیار کر لے اس وقت تک خدا کے ساتھ عاجزی کی اہلیت پیدا نہیں ہوتی کیونکہ خدا کے سامنے تو بظا ہر ہر اندرونی نفس کے متکبر کے لئے بھی بڑائی کا سوال نہیں ہوتا۔اس کو کیسے پتا چلے گا کہ واقعہ وہ عاجز ہے یا خدا کی عظمت اتنی ظاہر وباہر ہے کہ اس کے سامنے عاجزی اختیار کئے بغیر چارا کوئی نہیں۔جب عاجز بندوں کے سامنے انسان بحر محسوس کرتا ہے اور ہر قسم کی بڑائی کو اپنے نفس سے مٹادیتا ہے تب وہ ان معنوں میں عبد بنتا ہے کہ پھر وہ خدا کی عبادت کا مستحق اور اہل ہو جاتا ہے اور پھر اس کی عبادت کو عاجزانہ عبادت قرار دیا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت کے عبد ہونے کے مضمون کو بالکل اسی رنگ میں پیش فرمایا ہے۔ایک جگہ فرماتے ہیں۔عبودیت سے مراد وہ حالت انقیاد اور موافقت تامہ اور رضا اور وفا صلى الله اور استقامت ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص تصرف سے آنحضرت ﷺ میں پیدا ہوئی جس سے آپ اس راہ کی طرح ہو گئے جو صاف کیا جا تا اور نرم کیا جاتا اور سیدھا کیا جاتا ہے۔“ انقیاد سے مراد انتہائی تذلل ہے۔انتقاد جب عربی میں کہا جاتا ہے تو مراد ہے کہ ایک آدمی اپنے آپ کو کلیۂ بچھا دے، خاک میں ملا دے، کامل تذلل اور بجز اختیار کرے اور اس کے بعد آپ فرماتے ہیں ” موافقت تامہ پھر خدا تعالیٰ کی ذات سے ایسی ہم آہنگی محسوس کرے کہ اس کے نتیجے