خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 230
خطبات طاہر جلد ۹ صل الله 230 خطبه جمعه ۲۰ / اپریل ۱۹۹۰ء آنحضرت ﷺ کو وسیلہ ان معنوں میں نہیں پیش کر رہے کہ گویا نعوذ باللہ آپ وہ راہ ہیں جن پر قدم مارتے ہوئے لوگ آگے بڑھیں گے۔ایسا حیرت انگیز عرفان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نصیب ہوا کہ اس کو بندہ اپنی کوشش سے تمام عمر سجدوں میں سر رگڑ کے بھی حاصل نہیں کر سکتا۔یہ وہ عرفان ہے جو نازل ہوتا ہے ، جو خدا کی طرف سے نصیب ہوتا ہے فرماتے ہیں آپ نے اپنے نفس کو ایک بچھی ہوئی راہ بنا دیا اور وہ راہ اس غرض سے نہیں تھی کہ بندے اسی پر قدم رکھیں اس لئے تھی کہ خدا کی تجلیات اس پر دوڑ میں اوران راہوں سے خدا بندوں تک پہنچے۔پس جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو وسیلہ بنانا چاہتا ہے اسے بندوں کے مقابل پر بھی ایک کامل عجز اختیار کرنا ہوگا اور خدا کے مقابل پر بھی ایک کامل عجز اختیار کرنا ہوگا اپنی عبادت کو عاجزانہ رنگ بخشنے ہوں گے اور پھر آنحضرت ﷺ سے عبادت کے رنگ سیکھتے ہوئے خدا کی تجلیات کا انتظار کرنا ہوگا کہ جو محمد مصطفی میلے کے وسیلے سے اس تک پہنچیں گی اور ان راہوں سے آئیں گی جن راہوں سے حضرت محمد مصطفی امیہ کو وہ نصیب ہوئیں۔پس آنحضرت ﷺ اس لئے عبد کہلاتے ہیں کہ خدا نے محض اپنے تصرف اور تعلیم سے ان میں عملی کمال پیدا کیا اور ان کے نفس کو راہ کی طرح اپنی تجلیات کے گزرنے کے لئے نرم اور سیدھا اور صاف کیا اور اپنے تصرف سے وہ استقامت جو عبودیت کی شرط ہے ان میں پیدا کی۔پس وہ علمی حالت کے لحاظ سے مہدی ہیں اور عملی کیفیت کے لحاظ سے جو خدا کے عمل سے ان میں پیدا ہوئی عبد ہیں کیونکہ خدا نے ان کی روح پر اپنے ہاتھ سے وہ کام کیا ہے جو کوٹنے اور ہموار کر نیوالے آلات سے اس سڑک پہ کیا جاتا ہے جس کو صاف اور ہموار بنانا چاہتے ہیں اور چونکہ مہدی موعود کو بھی عبودیت کا مرتبہ آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے حاصل ہوا اس لئے مہدی موعود میں عبد کے لفظ کی کیفیت غلام کے لفظ سے ظاہر کی گئی یعنی اس کے نام کو غلام احمد کر کے پکارا گیا۔الله جہاں تک عبودیت کا تعلق ہے۔آپ نے بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات میں پڑھا ہوگا اور جیسا کہ میں نے پڑھ کر بعض اقتباسات سنائے ہیں ان میں سنا بھی ہے کہ ہمیشہ آپ نے اس کے ساتھ استقامت کا ذکر فرمایا ہے۔وہ عبادت جو عارضی ہو اور آنے جانے