خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 221 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 221

خطبات طاہر جلد ۹ 221 خطبه جمعه ۲۰ ر ا پریل ۱۹۹۰ء ہم نے یہ سوال کیا لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔اس رنگ کا کوئی نکتہ ہے جو ایک پنجابی نظم میں اس کا یاد کیا ہوا اور وہ سوالیہ رنگ میں میرے سامنے رکھتا ہے لیکن اس کی طرز میں تکبر یا دکھا انہیں بلکہ واقعہ وہ اس نکتے میں الجھا ہوا معلوم ہوتا ہے اور اس کے طرز بیان میں ایک درد پایا جاتا ہے۔پنجابی کے وہ شعر مجھے یاد تو نہیں مگر چند شعر ہیں۔ان کا مضمون یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی جو یہ کائنات ہے اس کے راز تو بہت گہرے ہیں اور ہماری آنکھیں جو د یکھ رہی ہیں وہ ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتیں اور ہماری آنکھیں جو دیکھتی ہیں وہ ہمیں کچھ اور منظر دکھاتی ہیں اور خدا کے جو قدرت کے راز یا عرفان کی باتیں ہیں ان تک ہماری آنکھیں پہنچ ہی نہیں سکتیں اور نہ ہم ان کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ہماری آنکھیں ٹیڑھا دیکھ رہی ہیں اور یہ کہتے کہتے وہ بڑے درد سے اپنی آنکھ کے نچلے پردوں کو انگلیوں سے نوچ کر نیچے کر کے آنکھیں دکھاتا ہے۔جن میں ایک قسم کی سرخی پائی جاتی ہے۔جیسے رورو کے سرخی پیدا ہوگئی ہو اور وہ نظم میں ہی کہتا ہے کہ دیکھیں ان آنکھوں کی وجہ سے ہمارا کیا قصور؟ ہمیں تو خدا نے آنکھیں وہ دی ہیں جو غلط دیکھ رہی ہیں اور اس کے رازوں کی حقیقت کو پانہیں سکتیں اب بتائیں کہ ہم کیا کریں ، ہم کیسے سمجھیں۔یہ نظم جب مکمل ہو جاتی ہے تو میں اس کو اشارہ کہتا ہوں کہ آئیں بیٹھیں اور میں آپ کو یہ مضمون سمجھا تا ہوں اور اتنے میں یوں معلوم ہوتا ہے جیسے اس بات کی خبر باقی ساتھیوں کو بھی پہنچ گئی ہے اور وہ دور دور سے واپس مڑے ہیں اور ایک دائرے کی شکل میں مجلس بنا کر میری بات سننے کے لئے بیٹھ گئے ہیں۔میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ نے بظاہر ایک بڑی الجھی ہوئی بات پیش کی ہے لیکن میں اس کی ایک سادہ سی تفسیر آپ کو بتاتا ہوں جو ابھی دیکھتے دیکھتے آپ کو بات سمجھا دے گی اور وہ آپ کی اس عارفانہ نظم کی در حقیقت تفسیر ہے ( تفسیر کا لفظ تو میں نہیں بولتا ) لیکن اس مضمون کو سمجھانے کے لئے میں کہتا ہوں۔آپ کے سامنے میں ربوہ کی مثال رکھتا ہوں۔آپ لوگ پاکستان کے مختلف شہروں میں رہتے ہیں وہاں سے ربوہ تشریف لائے ہیں۔یہاں آپ نے کچھ چہرے دیکھے ہیں، ان چہروں میں آپ کو خدا کا خوف دکھائی دیتا ہے۔ان چہروں میں آپ کو عبادت کے رنگ دکھائی دیتے ہیں، ان چہروں میں آپ کو تقوی دکھائی دیتا ہے۔ان چہروں میں آپ کو دین کی محبت اور اسلامی آداب اور اسلامی اخلاق دکھائی دیتے ہیں، یہاں کے گلیوں میں چلنے پھرنے والوں کو آپ نے دیکھا ، یہاں مجالس میں اٹھنے بیٹھنے والوں کو آپ نے دیکھا اور آپ اپنے دل سے گواہی لے کر مجھے بتائیں کہ کیا آپ کی آنکھوں