خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 220
خطبات طاہر جلد ۹ 220 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء یہاں رواج ہے اسے ٹا۔ٹا کہہ کے اس جمعہ سے چھٹی حاصل کرلو۔تو یہ ایک بالکل غیر اسلامی ، غیر مومنانہ بلکہ ایسا تصور ہے جسے کوئی عاشق قبول نہیں کر سکتا۔پس یہ جمعہ درحقیقت جمعۃ الوصال کی حیثیت سے ہی اہمیت رکھتا ہے اور جمعہ الوصال کی حیثیت سے ہی اسے سمجھنا چاہئے۔آنحضرت که تو در حقیقت رمضان مبارک کے آخری عشرے میں غیر معمولی عبادت کیا کرتے تھے اور اسی عشرے میں لیلۃ القدر کی تلاش فرمایا کرتے تھے اور اس عشرے میں واقعہ ہونے والے جمعہ کو باقی دنوں سے ایک امتیازی شان حاصل ہوتی ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا اور اسی لئے اس جمعہ نے امت محمدیہ کے تصورات میں ایک مقام پیدا کیا ہے لیکن اس کی کیا حیثیت ہے؟ اس کے متعلق میں قدرے روشنی ڈالوں گا لیکن اس سے پہلے میں اس مضمون کو ایک اور طریق پر شروع کرنا چاہتا ہوں۔یہ لقاء ہی کا مضمون ہے جو گزشتہ چند خطبات سے جب سے رمضان کے خطبے شروع ہوئے ہیں جاری ہے۔رات رویا میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مضمون کو ایک اور طریق پر دکھایا اور ساتھ ہی قرآن کریم کی ایک آیت کی ایک نئی تفسیر سمجھائی جس کا لقاء سے بڑا گہرا تعلق ہے اور دراصل جو مضمون میں آج کے خطبے میں بیان کرنا چاہتا تھا اسی کی تمہید ہے جو مجھے سمجھائی گئی ہے، رؤیا بڑی دلچسپ اور عجیب سی ہے۔میں نے دیکھا کہ ربوہ میں کھلے گھاس کے میدان میں اکیلا بیٹھا ہوں اور وہاں پاکستان سے مختلف پروفیشنل گانے والے جو ریڈیو پاکستان یا ٹیلی ویژن وغیرہ میں گانوں میں حصہ لیتے ہیں، وہ کسی تقریب میں شمولیت کی غرض سے آئے ہوئے ہیں اور ان کا جو رستہ ہے ان کے درمیان اور میرے درمیان ایک دیوار حائل ہے۔گویا اس رستے پر جس پر وہ چل رہے ہیں ایک دیوار کی اوٹ ہے لیکن بعض جگہ در کھلے ہوئے ہیں۔چنانچہ ایک در سے گزرتے ہوئے ان میں سے ایک شخص کی نظر مجھ پر پڑتی ہے اور خواب میں مجھ پر یہ تاثر ہے کہ یہ مجھے جانتا ہے اور میں اس کو جانتا ہوں۔تو وہ جس طرح ایک انسان جانی پہچانی شکل کو ملنے کے لئے آگے بڑھتا ہے وہ میری طرف آگے بڑھتا ہے لیکن قریب آنے کی بجائے کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر مجھے پنجابی میں کچھ شعر سناتا ہے۔وہ جو پنجابی کے شعر ہیں وہ اس رنگ کے ہیں جیسے بعض دیہاتیوں کو یا کم علم والوں کو بعض دفعہ کوئی نکتہ ہاتھ آ جائے تو وہ بڑے فخر سے بڑے بڑے علماء کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر مجلسوں میں بیان کرتے ہیں