خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 222
خطبات طاہر جلد ۹ 222 خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۹۰ء نے آپ کو صحیح خبر نہیں دی تھی ، کیا آپ کی آنکھوں نے واقعہ آپ کو یہ اطلاع نہیں دی کہ اسلام کا جو بھی تصور ہے وہ یہاں پایا جاتا ہے اور جو مسلمانوں کی ادائیں ہونی چاہئیں وہ ان لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔پھر آنکھوں نے تو آپ سے کوئی دھوکہ نہیں کیا۔اس کے باوجود اگر آپ کے دل کچھ اور پیغام لیں تو خدا کی بنائی ہوئی آنکھوں کا کیا قصور ہے۔پھر میں ان سے کہتا ہوں کہ اب آپ موازنے کے طور پر چنیوٹ چلے جائیں جو ربوہ کے قریب ہی ہے اور وہاں بھی جا کر لوگوں کے چہروں کے مشاہدے کریں، وہاں بھی ان کی حرکات وسکنات کو غور سے دیکھیں۔وہاں جا کر بھی سوچیں کہ آپ کے نزدیک قرون اولیٰ کے مسلمان کیسے ہونے چاہئیں تھے۔حضرت اقدس محمد مصطفی می اے سے فیض پانے والے مسلمانوں کی کیا ادائیں ہونی چاہئیں اور دیکھیں اور پھر اپنے نفس سے پوچھیں کہ کیا آنکھوں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا؟ کیا آنکھوں کا پیغام یہی تھا کہ یہ جو ربوہ کے سب سے شدید مخالفین میں سے ہیں یہ بچے مسلمان دکھائی دے رہے ہیں یا آپ کی آنکھوں نے آپ کو یہ بتایا تھا کہ مسلمانی کی کوئی بھی علامتیں ان میں نہیں پائی جاتیں۔ان کا اٹھنا بیٹھنا ، ان کا بولنا ، ان کا چلنا پھرنا ، ان کے مزاج سارے اسلام سے دور پڑے ہوئے ہیں۔تو اب بتائیں کہ ہمارے خدا نے آپ کے ساتھ انصاف کیا کہ نہیں کیا؟ آپ کو سچی آنکھیں بخشیں کہ نہیں بخشیں؟ وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ ( ا لج : ۴۷ ) والا مضمون ہے مگر اس آیت کا میں نے حوالہ نہیں دیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوا کرتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں چھپے ہوئے ہیں۔یہاں صدور سے مراد تاریکی کے پردوں میں چھپے ہوئے ہیں۔پس وہ دل جو خود اندھیروں میں بس رہے ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں نہ کہ وہ آنکھیں جو صحیح پیغام، جو کچھ وہ دیکھتی ہیں لوگوں تک پہنچا دیا کرتی ہیں۔پس یہ رویا جو ہے یہ دیکھتے ہی میرے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ اتنا واضح نظارہ ہے جس طرح میں آمنے سامنے دیکھ رہا ہوں اور اسی کیفیت میں میں جاگ بھی چکا تھا اور یہ رویا کا مضمون جاری تھا۔یعنی صفائی رؤیا کی ایسی تھی کہ گویا بالکل جاگے ہوئے کا کوئی نظارہ ہو اور چنانچہ نیند میں اور اٹھنے میں فرق نظر نہیں آیا اور رڈیا کے جو آخری فقرے ہیں وہ میں نے جاگ کے ادا کئے جبکہ وہ منظر نظر سے غائب ہو چکا تھا۔اس پر میری توجہ قرآن کریم کی اس آیت کی طرف پھیری گئی جس کا میں نے ان