خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 14

خطبات طاہر جلد ۹ 14 خطبه جمعه ۵ /جنوری ۱۹۹۰ء اے بنی نوع انسان ! دیکھو یہ کلام الہی کتنا عظیم ہے کہ اگر ہم اس کو پہاڑوں پر بھی نازل کرتے تو پہاڑ خدا کی خشیت اور اس کے رعب سے جھک جاتے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے۔تِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ یہ مثالیں ہیں جو لوگوں کے لئے ہم بیان کر ہے ہیں تا کہ وہ فکر کریں۔اب یہ مضمون ایسا ہے جو براہ راست نہیں سمجھ آتا کہ قرآن کریم پہاڑوں پر نازل ہو۔پہاڑوں پر کیسے نازل ہو؟ اور وہ ٹکڑے ٹکڑے کیسے ہوں؟ یہ مضمون ایسا نہیں ہے جو بالبداہت صاف دکھائی دینے والا مضمون ہو۔اس لئے یہاں فکر کا لفظ استعمال فرمایا۔تو فرمایا کہ جو دوسری مثال ہے۔جو شہد کی مکھی کی مثال ہے۔اس کے مضمون کو سمجھنے کے لئے تمہیں صاحب فکر ہونا پڑے گا۔اگر تم تفکر کرو گے اور مضامین کی تلاش میں عقل کا چراغ لے کر نکلو گے تو اس آیت میں تمہیں عظیم الشان مضامین ملیں گے اور یہ ہم تمہیں تنبیہ کر رہے ہیں کہ سرسری طور پر اس آیت سے نہ گزر جانا۔ٹھہر و،غور کرو فکر کرو اور معلوم کرو کہ اس میں تمہارے لئے کیا پیغام ہے۔شہد کی مکھی کے مضمون پر بہت ہی عالمانہ کتب لکھی جاچکی ہیں۔پہلے میرا خیال تھا کہ ان کتب کی روشنی میں آپ کو اس لکھی کے حالات کی تفصیل بتاؤں تا کہ تفکر کا حق پورا ہولیکن چونکہ جمعہ کا وقت تھوڑا ہوتا ہے اور تفصیل سے اس مضمون کا حق ادا کر ناممکن نہیں تھا اس لئے سر دست میں نے اس حصے کونظر انداز کر دیا ہے۔پھر اگر توفیق ملی تو کسی وقت تفصیل سے اس مضمون پر روشنی ڈالوں گا۔یہاں سر دست اتنا بتانا کافی ہے کہ مومنوں کی جماعت جو کہ آپ ہیں۔وہ الہی جماعت جو الہام کی روشنی میں پرورش پاتی ہے اور الہام کی تعلیم سے اس کو تعلیم دی جاتی ہے اور وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پھر اس کو اپنے عمل میں ڈھال دیتی ہے اور تعلیم کا تتبع کرتی ہے اور تکبر کے ساتھ نہیں بلکہ عاجزانہ طور پر بغیر کسی انانیت کے بغیر سوال اٹھائے ان راہوں پر چل پڑتی ہے جو راہیں خدا تعالیٰ ان کے لئے مقرر فرماتا ہے اور پھر وہ اس کے نتیجے میں روحانی رزق حاصل کرتی ہے اور جو بھی اس کو روحانی رزق ملتا ہے۔تَتَفَكَّرُونَ فکر اور تدبر کے ذریعے اسے مزید اعلیٰ بناتی چلی جاتی ہے تفکرون کا مضمون اس لحاظ سے اندرونی طور پر بھی اس آیت پر اطلاق پا رہا ہے۔یعنی جب مومن کو روحانی غذا ملتی ہے تو وہ ایسی نہیں رہتی۔جب وہ تفکر کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس غذا میں ایک جلاء پیدا ہو جاتی ہے اور ایک نئی چیز اس سے پیدا ہو جاتی ہے اور پھر جو کچھ اس کو خدا تعالیٰ عطا کرتا ہے وہ اپنے تک نہیں رکھتا