خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 13
خطبات طاہر جلد ۹ 13 خطبه جمعه ۵ /جنوری ۱۹۹۰ء کرے۔فکر کا مضمون جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، قرآن کریم نے زیادہ گہرے مضامین کے لئے استعمال فرمایا ہے۔اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةِ (الاعراف: ۱۸۵) اگر ان کو ایک نبی کی صداقت کا ظاہری طور پر علم نہیں ہوسکتا تو غور وفکر کیوں نہیں کرتے اور باتوں کے علاوہ یہ کیوں نہیں غور کرتے کہ اس شخص میں جنون کی علامتیں نہیں پائی جاتیں اور جو باتیں کر رہا ہے ان کے نتیجے میں یہ تمہارے ہاتھوں سے نقصان اٹھا رہا ہے۔تم سے ماریں کھاتا ہے ، گالیاں کھاتا ہے۔ہر قسم کی ذلتیں برداشت کرتا ہے اور صبر کے ساتھ ان شدید تکلیفوں میں سے گزرتا چلا جارہا ہے اور پھر بھی باتیں کہنے سے باز نہیں آتا۔یہ علامت تو جنون کی ہوا کرتی ہے یا پھر بہت ہی صاحب فہم اور صاحب عقل انسان ہوگا جو راستی پر قائم ہے ورنہ اسکو یہ توفیق نہیں مل سکتی۔یہ سوچنے کی باتیں ہیں۔فرمایا: تم جانتے ہو حمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت ہی صاحب عقل و فہم انسان ہیں۔پھر ان کو کیا ہو گیا ہے کہ ایسا جھوٹ بنارہے ہیں جس کے نتیجے میں ان کو مصیبت پر مصیبت پڑتی چلی جاتی ہے۔اگر یہ بچے نہ ہوتے تو یہ علامتیں مجنون کی علامتیں ہیں یہ مراد ہے۔تو دیکھیں اس پر استدلال کے ذریعے آپ نے ایک نتیجہ نکالا۔غور وفکر کے نتیجے میں آپ نے ایک مضمون حاصل کیا۔اس لئے قرآن کریم فرماتا ہے۔أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِنْ جِنَّةِ ان باتوں پر یہ فکر کیوں نہیں کرتے۔پھر فرمایا يبين الله لكم الآیت ( البقرہ:۲۲۰-۲۲۱) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات ظاہر فرما دی ہیں کہ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ تا کہ تم غوروفکر کرو۔کاش کہ تم فکر کرو۔فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اب آخرت کا جو مضمون ہے وہ براہ راست انسان کی سمجھ میں نہیں آیا کرتا۔کیونکہ ایک ایسی دنیا سے تعلق رکھتا ہے جو نظر سے غائب ہے۔وہ صرف اس طرح سمجھ آ سکتا ہے کہ دنیا کے مضمون پر پہلے فکر کرو ،غور کرو اور اس کے نتیجے میں پھر تم آخرت کے مضمون کو سمجھنے لگ جاؤ۔تو محض عقل کافی نہیں بلکہ تفکر ضروری ہے۔پھر فرمایا: لَوْ اَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ أَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِعَا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الحشر :۲۳)