خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 15

خطبات طاہر جلد ۹ 15 خطبه جمعه ۵ /جنوری ۱۹۹۰ء بلکہ غیروں کے فائدے کے لئے نکالتا ہے اور اس سے اس میں بنی نوع انسان کی روحانی بیماریوں کے لئے عظیم الشان شفاء پیدا ہو جاتی ہے۔پس اگر جماعت احمد یہ وہی جماعت ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے اور ہمیں یقین ہے اور کامل یقین ہے کہ یہ وہی جماعت ہے۔یہ وہی جماعت ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآنی تعلیم کی روشنی میں پیدا کی اور جس کا ”آخرین میں دوبارہ پیدا ہونا مقدر تھا۔تو پھر آپ کے لئے ضروری ہے کہ روحانی امور میں تفکر کی عادت ڈالیں اور جو کچھ سوچا کریں اس کو الہام کی روشنی میں سوچا کریں، انانیت کے ساتھ نہیں کیونکہ انانیت کے ساتھ اگر قرآن کریم کی کسی آیت پر آپ غور کریں گے تو آپ کا نفس آپ کو دھوکہ دے دے گا اور اس کے نتیجے میں شیطانی خیالات تو پیدا ہو سکتے ہیں حقیقی معنوں میں قرآن کا عرفان نصیب نہیں ہوسکتا۔پس فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبَّكِ ذُلُلا میں بہت ہی گہرا پیغام ہے کہ اپنے نفس پر بلا وجہ اعتماد کرتے ہوئے اور تکبر کا رنگ اختیار کرتے ہوئے تم روحانی مضمونوں کو نہیں پاسکتے۔تمہارے لئے ضروری ہے کہ انکسار اختیار کرو عاجزی اختیار کرو اپنے آپ کو لاشی محض سمجھتے ہوئے قرآن اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم کی پیروی کرو۔اور پھر اس کی جگالی کیا کرو، کیونکہ فکر میں مضمون کی جگالی کا مضمون داخل ہو جاتا ہے۔پھر عقل کی روشنی پکڑ و یعنی تقوی کے ساتھ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہاں عقل سے مراد تقویٰ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکی تعریف سے یہ بات ثابت ہے۔پھر جیسا کہ فکر کا معنی ہے کہ عقل کا چراغ لے کر انسان مضامین کا تتبع شروع کر دے۔تو اس مضمون میں یہاں یہ مطلب بنے گا کہ تقویٰ کی روشنی لے کر نکلو اور نئے مضامین حاصل کرنے کی کوشش کرو۔پھر ان مضامین سے جو کچھ تم حاصل کرو ، اس کو بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے رائج کر دو اور یقین رکھو کہ اس میں بنی نوع انسان کے لئے عظیم الشان شفاء ہو گی۔تم میں سے ہر ایک کے رنگ الگ الگ ہیں ، ہر ایک کی عقلیں الگ الگ ہیں، ہر ایک کی فکریں الگ الگ ہیں۔اس لئے بظاہر ایک ہی چیز کا رس چوس رہے ہوں گے یعنی الہی تعلیمات کا لیکن تمہارے اندر سے نئے نئے رنگ کے مضامین نکلیں گے اور ہر رنگ سے مضمون میں ایک شفا ہوگی۔