خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 182
خطبات طاہر جلد ۹ 182 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء مستقیم پر ہے۔پس اس مضمون کو سمجھنے کے بعد اھدنا کی دعا کا مفہوم زیادہ وضاحت کے ساتھ سمجھنے کی انسان میں اہلیت پیدا ہو جاتی ہے۔بہت سے مفسرین نے اس بات پر بحث چھیڑی ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں جو یہ فرمایا گیا کہ ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت دے۔جب صراط مستقیم حاصل ہوگئی تو پھر یہ دعا مانگتے رہنے کا کیا مطلب ہے اور اس کے بہت سے معانی بیان فرمائے گئے ہیں جو درست ہیں اور مختلف زاویوں سے درست ہیں لیکن حقیقی معنی یہ ہے کہ صراط مستقیم خدا کی ذات کا وجود ہے اور خدا کی ذات جس راہ پر کھڑی ہے وہ لا متناہی راہ ہے اور خدا کی ذات میں سفر لا متناہی ہے۔پس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَم کا معنی یہ ہوگا کہ اے خدا! جس راہ کے متعلق تو نے فرمایا ہے کہ اے نبی ! اعلان کر کہ اِنَّ رَبِّيٌّ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ میرا رب صراط مستقیم پر کھڑا ہے۔اس راہ کی ہدایت اس طرح دے کہ ہم ہمیشہ اسی راہ پر چلتے رہیں اور اسی راہ پر ہمیشہ تیرے وجود کے اندر آگے بڑھتے رہیں اور تیری ذات سے زیادہ متعارف ہوتے چلے جائیں۔یہ در حقیقت وہ لقاء ہے جو خدا کی مدد سے ملتی ہے اور ملنے کے بعد پھر جاری رہتی ہے اور یہ مضمون پھر کبھی ختم نہیں ہوتا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے خدا کے ملنے کی بہت سی راہیں ہیں لیکن ان راہوں کی تفاصیل بیان کرنے کا یہاں وقت نہیں۔ان میں سے آج کے مضمون کے لئے میں نے ایک راہ اختیار کی ہے اور وہ بجز کی راہ ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر اپنے منظوم کلام میں بھی بہت پیارے رنگ میں روشنی ڈالی ہے اور اپنے نثر کے کلام میں بھی بہت ہی پیارے رنگ میں روشنی ڈالی ہے۔فرماتے ہیں۔بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی دخل ނ ہو دار الوصال میں چھوڑ و غرور و کبر کہ تقویٰ اسی میں ہے ہو جاؤ خاک مرضی مولا اسی میں ہے پھر فرماتے ہیں۔جو خاک میں ملے آشنا ہے اے آزمانے والے ! نسخہ بھی آزما (درشین :۱۱۳)