خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 181

خطبات طاہر جلد ۹ 181 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء کے اندرونی مشاہدے سے تعلق رکھتی ہے۔اس میں بھی ایک ظاہری نظر ہے یعنی ظاہری تو نہیں کہنا چاہئے ، وہ عرفان کی نظر ہی ہوا کرتی ہے لیکن نسبتا سطح سے تعلق رکھنے والی ہے۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں بیان کیا تھا۔سائنس دانوں نے جو کائنات کا مطالعہ کیا ہے۔اگر سائنس دان کی نظر سے آفاقی مطالعہ کیا جائے یا اندرون کا ، اپنی ذات کا مطالعہ کیا جائے تو ہر مطالعہ خدا تعالیٰ کی طرف لے کر جائے گا اور انسان یوں لگتا ہے جیسے ایک آئینہ خانے میں چلا گیا ہے۔آئینہ خانے میں تو ایسا نظارہ ہوتا ہے کہ انسان جدھر دیکھے ادھر اپنے آپ کو خود ہی دکھائی دیتا ہے۔یعنی اپنی صورت ہی دکھائی دیتی ہے مگر عرفان کا یہ آئینہ خانہ وہ ہے جس میں ہر طرف خدا دکھائی دینے لگتا ہے لیکن یہ بھی نظارہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ابھی نسبتا سطحی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون ہمارے سامنے رکھا۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت :۷۰) وہ لوگ جو میری خاطر جہد کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں۔جو میری ذات کی تلاش میں رہتے ہیں۔لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ہم ہیں جو اپنی راہیں ان کو دکھاتے ہیں۔پس محض جہد سے جو نظارے دکھائی دیتے ہیں اسے لقاء نہیں کہا جاسکتا۔لقاء کے لئے اپنے محبوب کا خود جھک کر ہاتھ پکڑنا ضروری ہے ورنہ دور کے نظارے تو بعض دفعہ دل کی پیاس بجھانے کی بجائے اور بھڑ کا جایا کرتے ہیں۔پس لقاء سے مراد نظارہ نہیں ہے۔لقاء سے مراد تعلق ہے۔پیار اور محبت کا تعلق جو پہلی لقاء جو نظارے کی لقاء ہے اس کے بعد حاصل ہوا کرتا ہے اور اس پہلو سے خدا تعالیٰ کا نظارہ اپنے وجود میں انسان دیکھ بھی سکتا ہے اور نہیں بھی دیکھ سکتا۔یہ اور طرح کا نظارہ ہے جس کو میں مختصر کرنے کی کوشش کروں گا مگر نسبتا تفصیل سے بیان بھی کروں گا۔جہاں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ مجھ تک پہنچنے کی بہت سی راہیں ہیں اور پھر میں مدد کرتا ہوں تم اپنی کوشش سے ان راہوں کے ذریعے مجھ تک نہیں پہنچ سکتے۔وہاں اپنے ملنے کی ایک راہ بھی بیان فرمائی اور اس کا نام صراط مستقیم رکھا۔چنانچہ جہاں فرمایا۔لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ہم اپنی راہوں کی طرف ان کو ہدایت دیتے ہیں۔وہاں یہ دعا سکھلا دی اِهْدِنَا الصِّرَاط الْمُسْتَقِيمَ کے اے خدا ! ہمیں صراط مستقیم کی راہ دکھا۔صراط مستقیم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (ہود: ۵۷) کہ اے نبی ! اعلان کر دے کہ میرا رب صراط