خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 183 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 183

خطبات طاہر جلد ۹ 183 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء پس سب سے زیادہ قریب راہ اور آسان بھی اور مشکل بھی عجز کی راہ ہے۔اپنے آپ کو گرا دینا آسان ہے اس لئے میں نے اسے آسان راہ کہا لیکن جب تکبر کے ڈنڈے کے سہارے انسان کا پھولا ہوا خیمہ کھڑا ہوا ہو جب تک وہ ڈنڈے نہ توڑے جائیں اس خیمے کا گرنا آسان نہیں ہوا کرتا اس لئے ایک پہلو سے یہ راہ آسان ہے اور ایک پہلو سے مشکل ہے لیکن جہاں تک خدا کی لقاء کا تعلق ہے ، اس میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ عجز کے بغیر خدا تعالیٰ کی لقاء ممکن نہیں ہے اور عجز انسان کو مختلف پہلوؤں سے نصیب ہوتا ہے اور اس مضمون پر بھی آپ اگر غور کریں تو آپ حیران ہوں گے کہ بڑے بڑے عاجز بندے بھی جو حقیقہ بجز کی کئی منازل طے کر چکے ہوتے ہیں ، بہت سے پہلوؤں سے بجز سے عاری ہوا کرتے ہیں۔اس لئے اس مضمون کو بڑا گہرائی سے سمجھنا چاہئے بجز کیا ہے اور کیسے نصیب ہوتا ہے؟ اور اس کے بر عکس تکبر کیا ہے؟ اور تکبر سے بچنے کے کیا طریق ہیں؟ ان کو اگر آپ خوب اچھی طرح سمجھ لیں تو آپ کے لئے خدا تک پہنچنے کی ایک راہ آسان تر ہو جائے گی اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، آسان ہونے کے باوجود پھر بھی جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے اذن نہیں ہوگا اس وقت تک آپ اس راہ میں آگے نہیں بڑھ سکیں گے اور یہ بھی بجز سے ہی حاصل ہوتا ہے۔وہ دعا مقبول ہوتی ہے جو بجز کے آخری مقام پر ہو اور اس دعا کا مقبول ہونا ایک ایسی حقیقت بن جاتا ہے جو سورج سے زیادہ بڑھ کر روشن ہوتی ہے۔پس سجدے کی دعاؤں کے متعلق جو آپ سنتے ہیں کہ سجدے میں دعائیں مانگی جائیں تو وہ زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔اس سے مراد صرف یہ نہیں کہ سجدے کی حالت میں جو جسم کی حالت ہوتی ہے جو دعا مانگی جائے وہ مقبول ہوتی ہے۔بعض دفعہ کھڑے کھڑے روحیں سجدہ ریز ہو جایا کرتی ہیں بعض دفعہ کھڑے کھڑے انسانی فکر ایسی عاجزی اختیار کرتا ہے کہ اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔وہ خدا کے حضور کلیۂ مٹ جاتا ہے۔وہ سجدہ ہے جس سجدے کی دعائیں مقبول ہوا کرتی ہیں کیونکہ وہ سجدہ حقیقی محجز سے تعلق رکھتا ہے۔انسان میں جو بعجز ہے وہ اس کے اندرونی رحجان سے تعلق رکھتا ہے اور محض اپنے آپ کو واقعہ کمزور سمجھنا کسی بڑی طاقت کے مقابل پر یہ بھر نہیں ہے۔پہاڑ کے دامن میں کوئی بڑے سے بڑا انسان بھی چلا جائے کیسا ہی متکبر کیوں نہ ہو۔اگر ایک عظیم پہاڑ کے دامن میں کھڑا ہوگا تو اس کو ایک