خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 180
خطبات طاہر جلد ۹ مجھے 180 رہے خطبہ جمعہ ۶ راپریل ۱۹۹۰ء د یکھتا جو نہیں ہے تو یہ تری نظر کا قصو مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے نر تڑپ رہے ہیں تیری ہیں تیری جبین نیاز میں مجھے دیکھ رفعت کوہ میں مجھے دیکھ پستی کاہ میں مجھے دیکھ عجز فقیر میں مجھے دیکھ شوکت شاہ میں نہ دکھائی دوں تو یہ فکر کر کہیں فرق ہو نہ نگاہ میں مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیری جبینِ نیاز میں مجھے ڈھونڈ دل کی تڑپ میں تو مجھ دیکھ روئے نگار میں کبھی بلبلوں کی صدا میں سن کبھی دیکھ گل کے نکھار میں میری ایک شان خزاں میں ہے میری ایک شان بہار میں مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیری جبینِ نیاز میں میرا نورشکل ہلال میں مرا حسن بدر کمال میں کبھی دیکھ طرز جمال میں کبھی دیکھ شان جلال میں رگِ جاں سے ہوں میں قریب تر ترا دل ہے کس کے خیال میں مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تیری جبین نیاز میں در عدن صفحہ : اے یہ نظارہ جو آپ نے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے کلام میں دیکھا ہے۔یہ عارفانہ ہونے کے باوجود لقاء کا وہ نظارہ ہے جو ابھی سطح سے تعلق رکھتا ہے، آفاقی نظر ہے۔اس میں گہرائی بھی ہے، ہر سطح سے گویا وہ شیشے کی سطح ہے۔نظر لوٹ کر واپس آنے کی بجائے خدا کی جانب اٹھتی ہے۔جیسے بعض دفعہ زاویوں سے شیشے کو دیکھا جائے تو اپنا وجود دکھائی دینے کی بجائے دوسرا مقابل پر اس زاویے پر کھڑا ہوا ایک اور وجود دکھائی دیتا ہے۔لیکن خدا کو دیکھنے کی ایک اور نظر ہے جو خدا کی ذات