خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 179
خطبات طاہر جلد ۹ 179 خطبه جمعه ۶ را بریل ۱۹۹۰ء حصول لقاء کے ذرائع عجز اختیار کریں کیونکہ متکبر کے لئے لقاء کا حصول ناممکن ہے (خطبه جمعه فرموده ۶ را پریل ۱۹۹۰ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: علامہ اقبال نے ایک دفعہ اپنی ایک نظم میں خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ عرض کیا کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں ( کلیات اقبال صفحه: ۲۸۰) یہ وہی لقاء کا مضمون ہے جو پچھلے دو خطبوں میں میں بیان کرتا آرہا ہوں لیکن ایک ایسی آنکھ نے لقاء کے مضمون کو دیکھنے کی کوشش کی جو عرفان سے عاری تھی۔چنانچہ اس مضمون کو حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے ایک جوابی نظم میں بیان فرمایا تھا۔علامہ اقبال نے تو یہ کہا تھا کہ کبھی اے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں کیوں نظر نہیں آتی؟ کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں۔اتنے سجدے میں نے تیرے حضور تیری لقاء کی خاطر کئے کہ گویا وہ سجدے آج بھی میری اس جبین نیاز میں تڑپ رہے ہیں جو میں زمین سے تیرے حضور رگڑ تا رہا ہوں۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے جواباً جو نظم لکھی ، میں اس کے چند شعر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔انہوں نے لکھا: