خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 142
خطبات طاہر جلد ۹ 142 خطبہ جمعہ ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء کے قائل ہونے سے آیا کرتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کثرت کے ساتھ یورپ میں جب خطابات کا موقع ملتا ہے یا سوال و جواب کی مجالس میں بیٹھنا پڑتا ہے۔تو کھلم کھلا لوگ اظہار کرتے ہیں کہ ہمارے دماغ آپ کی باتوں کے قائل ہو گئے ہیں لیکن عمل کی قوت پیدا نہیں ہوتی۔عمل کی قوت دل کے قائل ہونے سے یا دل کے گھائل ہونے سے پیدا ہوا کرتی ہے۔پس دلوں کو تو دلوں نے گھائل کرنا ہے۔دماغوں کو دماغ کی باتیں قائل کریں گے لیکن اس کے باوجود تبدیلیاں پیدا نہیں ہوں گی۔یہ آپ کی محبت ہے جو دلوں پر غالب آسکتی ہے اور محبت سے بڑھ کر آپ کی دعائیں ہیں جو دلوں کو قائل کر سکتی ہیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے جو دل جیتے ان کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اگر میر افضل اور میری رحمت شامل حال نہ ہوتی تو تو یہ دل نہیں جیت سکتا تھا۔پس آنحضرت ﷺ سے بڑھ کر کسی کے لئے اخلاق کا دعویدار ہونے کا کوئی وہم و گمان بھی نہیں آسکتا۔پس اگر خدا آپ کو مخاطب کر کے یہ فرماتا ہے کہ تو اپنے اخلاق حسنہ کے باوجود یہ دل نہیں جیت سکتا تھا ان کو اکٹھا نہیں کر سکتا تھا جب تک میری رحمت شامل حال نہ ہوتی۔تو اس کے مقابل پر آپ کیا ہیں آپ کی کیا حیثیت ہے، اگر چہ دلوں کو جیتنے کے لئے اخلاق حسنہ ضروری ہیں مگر صرف انہی پر انحصار نہیں کرنا خدا کی رحمت پر انحصار کرنا ہے اور اس کے لئے آپ کو لازماً دعا گو ہونا پڑے گا اس کے لئے لازماً خدا سے تعلق باندھنے ہوں گے اور دنیا کو نظر آئے یا نہ آئے آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ خدا کے بندے بن چکے ہیں۔آپ خدا کے نمائندہ بن چکے ہیں۔پس یہ وہ آخری میرا پیغام ہے جسے آپ کو لازماً سمجھنا چاہئے اور اس کی اہمیت کو دلنشین کرنا چاہئے۔پیغا مبر کئی قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ایک زبان کے ذریعے پیغام کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور جہاں تک ان کا بس چلتا ہے منطقی دلائل کے ذریعے اپنے پیغام کی فضیلت کو لوگوں پر ثابت کرتے رہتے ہیں مگر کتنے دل ہیں جو اس سے بد لے جاتے ہیں دلوں کی تبدیلی حقیقت میں اس کے بعد دو مراحل سے تعلق رکھتی ہے اور یہ بات میں آپ کو اپنے وسیع تجربہ کی بنا پر کہہ رہا ہوں۔دوسرا مرحلہ دلوں کو اخلاق حسنہ سے جیتنے کا مرحلہ ہے اور اس کے بغیر حقیقت میں پیغام کو قبول کرنے کے لئے کوئی قوم تیار ہو ہی نہیں سکتی۔پھر بھی جب آپ اس مرحلے پر فتح حاصل کر لیں تو آپ