خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 141 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 141

خطبات طاہر جلد ۹ 141 خطبہ جمعہ ۱۶ مارچ ۱۹۹۰ء پس ان کے کہنے کے مطابق ابتداء میں یہ مشکل تو ضرور ہوگی کہ آپ کی آواز ایک بیرونی جماعت کی آواز سمجھی جائے گی لیکن انہوں نے ساتھ اس امید کا بھی اظہار کیا کہ میں جماعت سپین کے جن دوستوں کو جانتا ہوں، ان کے اخلاق سے بڑا متاثر ہوں ان کی صاف گوئی اور سچائی سے بڑا متاثر ہوں اس لئے مجھے یقین ہے کہ یہ بیرونی پن کی جو اجنبیت ہے اس پر احمدیوں کے اخلاق فتح پالیں گے اور شروع میں کچھ دقت تو ہوگی لیکن رفتہ رفتہ آپ لوگوں نے اگر ایک سپینش احمدیوں کی جماعت تیار کر لی تو پھر آئندہ بڑی تیزی کے ساتھ تبلیغ اسلام کے رستے کھل جائیں گے۔اس وقت یعنی اس مجلس کے بعد ایک احمدی دوست نے ان سے کہا کہ آپ بیعت کر کے جائیں تو میں نے ان کو سمجھایا کہ اس طرح نہیں یہ خود اپنے مطالعہ کے ذریعہ آہستہ آہستہ جماعت کے قریب آرہے ہیں ان کو اور موقع دیں۔ہمیں تو ایسے احمدی چاہئیں جو سرتا پا جماعت کے مضمون کو، جماعت کے عقائد کو، جماعت کے کردار کو سمجھ کر اپنالیں اور پھر اس خدمت میں وقف ہو جائیں۔چنانچہ بعض خدا کے فضل سے ایسے مخلص احمدی نوجوان اور بعض نسبتا بڑی عمر کے یہاں موجود ہیں جن کے اندر اسلام کی سچی تعلیم گہرے طور پر سرائت کر چکی ہے اور ان کی شخصیت تبدیل ہو کر ایک اسلامی شخصیت میں تبدیل ہو چکی۔ہے۔پس کوشش کریں کہ اس قسم کے سپینش احمدی ہمیں میسر آئیں خاطبہ میں بھی اور میڈرڈ میں بھی اور پیدروآباد میں اور قرطبہ میں بھی اور اس کے علاوہ اندلس میں جہاں جہاں بھی ، خصوصیت سے اندلس میں میں نے اس لئے کہا ہے کہ اندلس مسلمانوں کے لئے ایک خاص عظمت اور محبت کا نشان بن چکا ہے اور اندلس کا نام آتے ہی پین کے لوگ بھی لازماً مسلمانوں کو یاد کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اس لئے اندلس میں غرناطہ میں ہماری جماعت ہے۔صرف غرناطہ میں ہی نہیں ہونی چاہئے اردگرد دیہایت میں پھیلنے کی ضرورت ہے۔پس بہت سے کام ہونے باقی ہیں۔مجھے جماعت کے ایک دوست نے کہا کہ آپ پانچ سال کے بعد آئے ہیں جلد جلد آیا کریں میں نے کہا آپ جلد جلد بڑھیں تا کہ میں جلد جلد آنے پر مجبور ہو جاؤں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ میرے اس پیغام کو آپ اپنے دل میں بٹھا ئیں گے اور محض دماغ قائل نہیں ہوں گے بلکہ دل قائل ہو جائیں گے۔دماغ تو قائل ہو جایا کرتے ہیں لیکن قوت عمل دل