خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 108
خطبات طاہر جلد ۹ 108 خطبہ جمعہ ۶ار فروری ۱۹۹۰ء وہ طاغیہ بن گئی جو حد سے بڑھے ہوئے عذاب کی صورت میں ان کو ہلاک کر گئی ان کو دنیا سے مٹا گئی۔پس میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ہماری تمنا ہے کہ ایسا ہو۔میں یہ کہہ رہا ہوں کہ ہمارا یہ خوف ہے کہ یہ قوم اگر نہ سمجھی تو ایسا نہ ہو جائے۔آپ کو یاد ہوگا کوئی چند سال پہلے میں نے خطبات کا ایک سلسلہ شروع کیا جس میں قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں بتایا کہ اس قوم کا رخ کس طرف ہے اور کس قسم کی سزائیں ان کا مقدر معلوم ہوتی ہیں۔ان میں ایک یہ مضمون بھی تھا کہ لوگ لوگوں کے خلاف ہو جائیں گے ہر شخص ایک دوسرے پر چڑھ دوڑے گا اور ملک سے امن اٹھ جائے گا۔وہ خطبہ آپ دوبارہ سنیں یا وہ خطبات سنیں تو آپ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ کس طرح چودہ سو سال پہلے قرآن کریم نے جو سرکش ہونے والی قوموں کے حالات بیان کئے تھے وہ پاکستان کے حالات پر کتنے دردناک طور پر اطلاق پارہے ہیں اور ان پر ثابت ہوتے ہیں۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بڑی گہری فکر کی بات ہے۔جہاں تک تمام دنیا کی جماعتوں کا تعلق ہے، ایک تو ان کے لئے اس بات میں ایمان کی مضبوطی کا پہلو ہے۔یعنی ایک پہلو سے ایمان افروز واقعہ ہے کہ ان حالات کو دیکھنے کے بعد دنیا کے پردے پر جہاں بھی کوئی احمدی بستا ہے وہ ایک لمحہ کے لئے بھی گمان نہیں کرسکتا کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جھوٹے تھے کیونکہ اگر آپ نعوذ باللہ جھوٹے تھے تو قرآن کریم کی یہ آیت پھر بالکل مہمل اور بے معنی ہو کر رہ جاتی ہے کہ طاغوت کا انکار کرنے والے خدا سے مضبوط تعلق قائم کر لیا کرتے ہیں اور ایک وحدت میں تبدیل ہو جایا کرتے ہیں۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نعوذ باللہ جھوٹے تھے تو جس قوم نے اس شدت کے ساتھ قومی سطح پر پورے کامل غوران کے کہنے کے مطابق فکر اور تدبر کے بعد ایک سوچا سمجھا فیصلہ کرتے ہوئے انکار کیا ہے، اس قوم کو جزا ملنی چاہئے یا سزاملنی چاہئے یہ سیدھا سوال ہے۔پس اتنے بڑے عظیم الشان فیصلہ کے بعد جوان کے فکر کے مطابق طاغوت کا کلیۂ قومی سطح پر انکار تھا، وہ کیسا خدا ہے جس نے ان کو طاغوت کے حوالے کر دیا اب یہ دیکھنے کے لئے تو کسی خاص بصیرت کی ضرورت نہیں ہے کہ اس وقت پاکستان طاغوت کے حوالے ہے اور احمدیت کا بڑے سے بڑا دشمن بھی خود یہ کہتا چلا جارہا ہے کہ ہاں ہم طاغوتی طاقتوں کے حوالے ہو چکے ہیں۔پھر کس نے