خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 107

خطبات طاہر جلد ۹ 107 خطبہ جمعہ ۶ار فروری ۱۹۹۰ء گندی زبان استعمال کی گئی ہے ایسا خوفناک اشتعال دلایا گیا ہے شیعہ علماء کی تحریروں سے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ چیزیں پھیلیں تو نہایت خون ریز فسادات شروع ہو جائیں گے اور وہ جو اشتہارات شائع کرنے والے ہیں معروف سنی علماء ہیں۔یہ نہیں کہ کوئی مخفی اشتہارات ہیں سب کو پتا ہے کہ کون ایسی حرکتیں کر رہا ہے۔صوبائی طور پر تقسیم ہوئی تھی اور ایک وقت ایسا تھا کہ ہم اس بات پر فکر مند اور پریشان تھے کہ صوبائی تقسیمیں شروع ہوگئی ہیں۔اب صوبے خود تقسیم ہو رہے ہیں شہر تقسیم ہونے لگے کوئی ایک افتراق کی راہ ایسی نہیں ہے جو کسی جگہ جا کر بند ہو چکی ہو۔کوئی رخ ایسا نہیں ہے افتراق کا جس کی کوئی آخری منزل ہو ہر تفریق کے بعد ایک اور تفریق ہوئی شروع ہو جاتی ہے۔پہلے سندھ اور پنجاب کی تفریق تھی ، پنجاب اور صوبہ سرحد کی تفریق تھی ، بلوچستان اور پنجاب کی تفریق تھی ، اب پنجاب عین بیچ میں سے بٹ چکا ہے، سندھ بٹ چکا ہے، کراچی بٹ چکا ہے، حیدر آباد بٹ چکا ہے اور ان کے اندر پھر مزید رخنے پیدا ہوتے چلے جارہے ہیں۔یہ جزا وہ جزا نہیں ہے جس کو قرآن کریم کی یہ آیت بیان کرتی ہے۔فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنَ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انفِصَامَ لَهَا کہ دیکھو اگر واقعہ تم نے طاغوت کا انکار کیا اور تمام طاغوتی طاقتوں سے تعلق توڑ لیا تو تم طغیانی میں نہیں بڑھو گے تمہیں وحدت عطا کی جائے گی تمہیں قوت عطا کی جائے گی تمہارا تعلق خدا تعالیٰ سے ایسا پختہ ہو جائے گا کہ پھر اس کے ٹوٹنے کا کوئی سوال باقی نہیں رہے گا۔یہ کیسا انکار تھا جس انکار نے اس قوم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے کیا قرآن کریم کی اس آیت کے تابع انکار تھا؟ کیا قرآن کریم کی یہ پیشگوئی اور یہ وعدے نعوذ باللہ جھوٹے نکلے؟ ہرگز نہیں ! صاف ظاہر ہے کہ یہ ایمان کا انکار ہے اور طاغوت پر ایمان لانے کے مترادف بات ہوئی ہے ورنہ خدا تعالیٰ تو ایسا نا شکر انہیں ایسا بے وفا نہیں کہ وہ قوم جو اس کی خاطر عظیم الشان اقدامات کر رہی ہو اور طاغوت کو مٹانے کیلئے کارروائیاں کر رہی ہو، اس قوم کو پکڑ کر اپنے سے تعلق توڑ کر طاغوت کے حوالے کر دے۔اس وقت پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا خلاصہ طغیانی ہے۔اسی لئے میں نے وہ آیت آپ کو پڑھ کے سنائی تھی جس میں خمود کا ذکر ہے۔فَاهْلِكُوا بِالطَّاغِيَةِ (الحاقہ : ۶) وہ اپنی سرکشی کا ہی شکار ہو کر رہ گئے۔وہی سرکشی جو انہوں نے خدا اور خدا والوں کے خلاف اختیار کی تھی ، وہی ان کے لئے