خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 93
خطبات طاہر جلد ۸ 93 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۹ء کریں، جتنا اندازہ ہے اُس کو اندازے کے طور پر بیان کریں اور اگر بچپن میں یہ عادت آپ نے نہ ڈالی تو بڑے ہو کر پھر دوبارہ رائج کرنا، بڑی عمر میں رائج کرنا بہت مشکل کام ہوا کرتا ہے کیونکہ ایسی باتیں انسان بغیر سوچے کرتا ہے۔عادت کا مطلب ہی یہ ہے خود بخو دمنہ سے ایک بات نکلتی ہے اور یہ بے احتیاطی بعض دفعہ پھر انسان کو جھوٹ کی طرف بھی لے جاتی ہے اور بڑی مشکل صورتحال پیدا کر دیتی ہے کیونکہ ایسے لوگوں میں سے بہت سے میں نے ایسے دیکھے ہیں جب اُن سے پوچھا جائے کہ آپ نے یہ کیوں کیا تو بجائے اس کے کہ اُس کی صاف بات بیان کریں کہ یہ ہم سے غلطی ہوگئی ہم نے اندازہ لگایا تھا وہ اپنی پہلی غلطی کو چھپانے کے لئے دوسری دفعہ پھر جھوٹ بولتے ہیں اور کوئی ایسا عذر تلاش کرتے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔جب اُس عذر کو پکڑیں تو پھر ایک اور جھوٹ بولتے ہیں۔خجالت الگ ، شرمندگی الگ سب دنیا اُن پہ ہنس رہی ہوتی ہے اور وہ بیچارے جھوٹ ہے جھوٹ بول کے اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔یہ چیزیں بچپن سے شروع ہوتی ہیں۔چھوٹے چھوٹے بچے جب گھر میں پکڑے جاتے ہیں کسی بات پر کہ آپ نے یہ کہا تھا یہ نہیں ہوا اُس وقت وہ ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور ماں باپ اس کا نوٹس نہیں لیتے۔اُس کے نتیجے میں مزاج بگڑ جاتے ہیں اور پھر بعض دفعہ ایسے بگڑتے ہیں کہ ٹھیک ہو ہی نہیں سکتے عادتاً وہ یہ کام شروع کر دیتے ہیں۔تو ایسے واقفین اگر جامعہ میں آجائیں گے تو جامعہ میں تو کوئی اور ایسا جادو نہیں ہے کہ اچانک ان کی یہ پرانے بگڑے ہوئے رنگ اچانک درست ہو جائیں۔ایسے رنگ درست ہوا کرتے ہیں غیر معمولی اندرونی انقلابات کے ذریعے۔وہ ایک الگ مضمون ہے۔ہم ایسے انقلابات کے امکانات کو رد نہیں کر سکتے لیکن یہ دستور عام نہیں ہے۔اس لئے ہم جب حکمت کے ساتھ اپنی زندگی کے پروگرام بناتے ہیں تو اتفاقات پر نہیں بنایا کرتے بلکہ دستور عام پر بنایا کرتے ہیں۔پس اس پہلو سے بچوں کو بہت گہری تربیت دینے کی ضرورت ہے یعنی جھوٹ نہیں ہوا کرتا ایک عادت ہے کہ تخمینے کو ایک اندازے کو حقیقت بنا کر پیش کر دینا۔پھر عمومی تعلیم میں ان کی بنیاد وسیع کرنے کی خاطر ان کو ٹائپ سکھانا چاہئے جو ٹائپ سیکھ سکتے ہوں۔اکا ؤنٹس رکھنے کی تربیت دینی چاہئے۔دیانت پہ جیسا کہ میں نے کہا تھا بہت زور ہونا چاہئے۔اموال میں خیانت کی جو کمزوری ہے یہ بہت ہی بھیا نک ہو جاتی ہے اگر واقفین زندگی میں