خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 94
خطبات طاہر جلد ۸ 94 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۹ء پائی جائے اور اُس کے بعض دفعہ نہایت ہی خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔وہ جماعت جو خالصۂ طوعی چندوں پر چل رہی ہے اُس میں دیانت کو اتنی غیر معمولی اہمیت ہے گویا دیانت کا ہماری شہ رگ کی حفاظت سے تعلق ہے۔سارا مالی نظام جو جماعت احمدیہ کا جاری ہے وہ اعتماد اور دیانت کی وجہ سے جاری ہے۔اگر جماعت میں یہ احساس پیدا ہو گیا خدانخواستہ کہ واقفین زندگی اور سلسلے کے اموال میں کام کرنے والے خود بد دیانت ہیں تو اُن کو جو چندے دینے کی توفیق نصیب ہوتی ہے اس تو فیق کا گلا گھونٹا جائے گا اور چاہیں گے بھی تو پھر اُن کو واقعہ چندہ دینے کی توفیق نہیں ملے گی۔اس لئے واقفین کو خصوصیت کے ساتھ مالی لحاظ سے بہت ہی درست ہونا چاہیئے اور اس لحاظ سے اکا ؤنٹس کا بھی ایک گہراتعلق ہے۔جو لوگ اکاؤنٹس نہیں رکھ سکتے اُن سے بعض دفعہ مالی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ بددیانتی ہوئی ہے اور بعض دفعہ مالی غلطیوں کے نتیجے میں جن کوا کا ؤنٹس کا طریقہ نہ آتا ہولوگ بد دیانتی کرتے ہیں اور افسر متعلقہ اُس میں ذمہ دار ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ لوگ جو اموال پر مقرر ہیں اُن کا مالی لحاظ سے دیانت کا معیار جماعت احمدیہ میں اتنا بلند ہے کہ دنیا کی کوئی جماعت بھی اُس کا مقابلہ نہیں کر سکتی لیکن خرابیاں پھر بھی دکھائی دیتی ہیں۔عمد ابد دیانتی کی مثالیں تو بہت شاذ ہیں یعنی انگلیوں پر گنی جاسکتی ہیں لیکن ایسے واقعات کی مثالیں بہت سی ہیں ، بہت سی سے مراد یہ ہے کہ مقابلہ بہت ہیں کہ جن میں ایک شخص کو حساب رکھنا نہیں آتا، ایک شخص کو یہ نہیں پتا کہ میں دستخط کر نے لگا ہوں تو میری کیا ذمہ داری ہے اس کے نتیجے میں ، کیا مجھے دیکھنا چاہئے۔جس کو جمع تفریق نہیں آتی اُس بیچارے کے نیچے بعض دفعہ بد دیانتی ہو جاتی ہے اور بعد میں پھر الزام اُس پر لگتے ہیں اور بعض دفعہ تحقیق کے نتیجے میں وہ بری بھی ہو جاتا ہے بعض دفعہ معاملہ الجھا ہی رہتا ہے پھر۔ہمیشہ ابہام باقی رہ جاتا ہے کہ پتا نہیں بد دیانت تھا یا نہیں تھا۔اس لئے اکا ؤنٹس کے متعلق تمام واقفین بچوں کو شروع ہی سے تربیت ہونی چاہئے اور ان کا تب ہی میں نے حساب کا ذکر کیا تھا ان کا حساب بھی اچھا ہو اور ان کو بچپن سے تربیت دی جائے کہ کس طرح اموال کا حساب رکھا جاتا ہے۔روزمرہ سودے کے ذریعے سے ان کو یہ تربیت دی جاسکتی ہے اور پھر سودا ان کے ذریعے کبھی منگوایا جائے تو اُس سے ان کی دیانتداری کی نوک پلک مزید درست کی جاسکتی ہے۔مثلاً بعض بچوں سے ماں باپ سودا منگواتے ہیں تو وہ چند پیسے جو بچتے ہیں وہ جیب میں رکھ لیتے ہیں۔بددیانتی کے طور پر نہیں اُن