خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 92
خطبات طاہر جلد ۸ 92 92 خطبه جمعه ارفروری ۱۹۸۹ء ایسے واقفین بچے چاہئیں جن کو شروع ہی سے اپنے غصے کو ضبط کرنے کی عادت ہونی چاہئے ، جن کو اپنے سے کم علم کو حقارت کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے ، جن کو یہ حوصلہ ہو کہ وہ مخالفانہ بات سنیں اور تحمل کا ثبوت دیں۔جب اُن سے کوئی بات پوچھی جائے تو تحمل کا ایک یہ بھی تقاضا ہے کہ ایک دم منہ سے کوئی بات نہ نکالیں بلکہ کچھ غور کر کے جواب دیں۔یہ ساری ایسی باتیں ہیں جو بچپن ہی سے طبیعتوں میں اور عادتوں میں رائج کرنی پڑتی ہیں اگر بچپن سے یہ عادتیں پختہ نہ ہوں تو بڑے ہوکر بعض دفعہ ایک انسان علم کے بہت بلند معیار تک پہننے کے باوجود بھی ان عام سادہ سادہ باتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے جب کسی سے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو فوراجواب دیتا ہے۔خواہ اس بات کا پتا ہو یا نہ ہو پھر بعض دفعہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ایک بات پوچھی اور جس شخص سے پوچھی گئی ہے اس کے علم میں یہ تو ہے کہ یہ بات ہونے والی تھی لیکن یہ علم میں نہیں ہے کہ ہو چکی ہے اور بسا اوقات وہ کہہ دیتا ہے کہ ہاں ہو چکی ہے اور واقفین زندگی کے اندر یہ چیز بہت بڑی خرابی پیدا کر سکتی ہے۔میں نے اپنے انتظامی تجربہ میں بارہا دیکھا ہے کہ اس قسم کی خبروں سے بعض دفعہ بہت سخت نقصان پہنچ جاتا ہے مثلا لنگر خانہ میں میں ناظم ہوتا تھا تو فون پر پوچھا کہ اتنے ہزار روٹی پک چکی ہے کہ جی ہاں پک چکی ہے تسلی ہو گئی۔جب پہنچا وہاں تو پتالگا اس سے کئی ہزار پیچھے ہے میں نے کہا آپ نے یہ کیا ظلم کیا ہے، یہ جھوٹ بولا ، غلط بیانی کی اور اس سے بڑا نقصان پہنچا ہے کہ نہیں جی جب وہ میں نے یہ بات کی تھی اُس سے پہلے، آدھا گھنٹہ پہلے اتنے ہزار ہو چکی تھی تو آدھے گھنٹے میں اتنی تو ضرور بننی چاہئے تھی یعنی فارمولا تو ٹھیک ہے لیکن واقعاتی دنیا میں فارمولے تو نہیں چلا کرتے۔واقعہ ایسی صورت میں یہ بات نکلی کہ وہاں کچھ خرابی پیدا ہوگئی، کوئی آپس میں لڑائی ہوگئی، گیس بند ہوگئی۔کئی قسم کی خرابیاں ایسی پیدا ہو جاتی تھیں تو جس آدھے گھنٹے میں اُس نے کئی ہزار کا حساب لگا یاوہ آدھا گھنٹہ کام ہو ہی نہیں رہا تھا۔تو یہ عادت عام ہے۔میں نے اپنے وسیع تجربے میں دیکھا ہے کہ ایشیا میں خصوصیت کے ساتھ یہ بہت زیادہ عادت پائی جاتی ہے کہ ایک چیز کا اندازہ لگا کر اُس کو واقعات کے طور پر بیان کر دیتے ہیں اور واقفین زندگی میں بھی یہ عادت آجاتی ہے یعنی جو پہلے سے آئے ہوئے ہیں اور اُن کی رپورٹوں میں بھی بعض دفعہ ایسے نقص نکلتے ہیں جس کی وجہ سے جماعت کو نقصان پہنچتا ہے۔اس لئے اس بات کی بچپن سے عادت ڈالنی چاہئے کہ جتنا علم ہے اُس کو علم کے طور پر بیان