خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 91
خطبات طاہر جلد ۸ 91 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۹ء ہوتے ہیں اور اس نے اسلام کو بہت شدید نقصان پہنچایا ہے۔وہ وجوہات جو مذاہب کے زوال کا موجب بنتی ہیں اُن میں یہ ایک بہت ہی اہم وجہ ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو اس سے سبق سیکھنا چاہئے اور وسیع علم کی بنیاد پر قائم دینی علم کوفروغ دینا چاہئے۔یعنی پہلے بنیاد عام دنیاوی علم کی وسیع ہو اُس پر پھر دینی علم کا پیوند لگے تو بہت ہی خوبصورت اور بابرکت ایک شجر طیبہ پیدا ہوسکتا ہے۔اس لحاظ سے بچپن ہی سے ان واقفین بچوں کو عام جنرل نالج بڑھانے کی طرف متوجہ کرنا چاہئے یعنی آپ متوجہ خود ہوں تو ان کا علم آپ ہی آپ بڑھے گا یعنی ماں باپ متوجہ ہوں اور بچوں کے لئے ایسے رسائل، ایسے اخبارات لگوایا کریں، ایسی کتابیں ان کو پڑھنے کی عادت ڈالیں جس کے نتیجے میں ان کا علم وسیع ہو اور جب وہ سکول میں جائیں تو ایسے مضامین کا انتخاب ہو جس سے سائنس کے متعلق بھی کچھ واقفیت ہو ، عام دنیا کے جو آرٹس کے مضامین ہیں لیکن سیکولر مضامین مثلاً معیشت ہے، اقتصادیات، فلسفہ، نفسیات اور حساب تجارت وغیرہ ایسے جتنے بھی متفرق امور ہیں ان سب میں سے کچھ نہ کچھ علم بچے کو ضرور ہونا چاہئے۔علاوہ ازیں پڑھنے کی عادت ڈالنی چاہئے کیونکہ سکولوں میں تو اتنازیادہ انسان کے پاس اختیار نہیں ہوا کرتا یعنی پانچ مضمون، چھ مضمون ، سات مضمون رکھ لے گا بچہ، بعض یہاں دس بھی کر لیتے ہیں لیکن اس سے زیادہ نہیں جاسکتے۔اس لئے ضروری ہے کہ ایسے بچوں کو اپنے تدریسی مطالعہ کے علاوہ مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔اب یہ چیزیں ایسی ہیں جو ہمارے واقفین زندگی بچوں کے والدین میں سے اکثر کے بس کی نہیں یعنی اُن کو تو میں نصیحت کر رہا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ بہت سے ایسے ہیں بیچارے افریقہ میں بھی ، ایشیا میں ، یورپ، امریکہ میں جن کے اندر یہ استطاعت نہیں ہے کہ اس پروگرام کو وہ واقعہ عملی طور پر اپنے بچوں میں رائج کر سکیں اس لئے یہ جتنی باتیں ہیں یہ متعلقہ شعبوں کو تحریک جدید کے متعلقہ شعبہ کو نوٹ کرنی چاہئیں اور اس خطبے میں جو نکات ہیں اُن کو آئندہ جماعت تک اس رنگ میں پہنچانے کا انتظام کرنا چاہئے کہ والدین کی اپنی کم علمی بھی اور اپنی استطاعت کی کمی بچوں کی اعلیٰ تعلیم کی راہ میں روک نہ بن سکے۔چنانچہ بعض جگہوں پر ایسے بچوں کی تربیت کا انتظام شروع ہی سے جماعت کو کرنا پڑے گا۔بعض جگہ ذیلی تنظیموں۔استفادے کئے جاسکتے ہیں مگر یہ بعد کی باتیں ہیں اس وقت تو ذہن میں جو چند باتیں آرہی ہیں وہ میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ ہمیں کس قسم کے واقفین بچے چاہئیں۔