خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 90
خطبات طاہر جلد ۸ 90 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۹ء ہوتے ہیں، اُن کے دل میں خدا کی محبت کے جذبات اُٹھ رہے ہوتے ہیں اُن کی تلاوت میں ایک زائد بات پیدا ہو جاتی ہے جو اصل ہے، زائد نہیں۔وہ روح ہے اصل تلاوت کی۔تو ایسے گھروں میں جہاں واقفین زندگی ہیں وہاں تلاوت کے اس پہلو پر بہت زور دینا چاہئے۔خواہ تھوڑا پڑھایا جائے لیکن ترجمہ کے ساتھ مطالب کے بیان کے ساتھ پڑھایا جائے اور یہ عادت ڈالی جائے بچے کو کہ جو کچھ بھی وہ تلاوت کرتا ہے وہ سمجھ کر کرتا ہے۔ایک تو روز مرہ کی صبح کی تلاوت ہے اُس میں تو ہو سکتا ہے کہ بغیر سمجھ کے بھی ایک لمبے عرصے تک آپ کو اُس کو قرآن کریم پڑھانا ہی ہو گا لیکن ساتھ ساتھ یہ ترجمہ سکھانے اور مطالب کی طرف متوجہ کرنے کا پروگرام بھی جاری رہنا چاہئے۔نماز کی پابندی اور نماز کے جو لوازمات ہیں اُن کے متعلق بچپن سے تعلیم دینا اور سکھانا یہ بھی جامعہ میں آ کر سیکھنے والی باتیں نہیں اُس سے بہت پہلے گھروں میں اپنے ماں باپ کی تربیت کے نیچے یہ باتیں بچوں کو آ جانی چاہئیں۔اس کے علاوہ تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور دینی تعلیم میں وسعت کا ایک طریق یہ ہے کہ مرکزی اخبار اور رسائل کا مطالعہ رہے۔بدقسمتی سے اس وقت بعض ممالک ایسے ہیں جہاں مقامی اخبار نہیں ہیں اور بعض زبانیں ایسی ہیں جن میں مقامی اخبار نہیں ہیں لیکن ابھی ہمارے پاس وقت ہے اور گزشتہ چند سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں میں اپنے اپنے اخبار جاری کرنے کے رجحان بڑھ چکے ہیں۔تو ساری جماعت کی انتظامیہ کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ جب آئندہ دو تین سال میں یہ بچے سمجھنے کے لائق ہو جائیں یا چار پانچ سال تک سمجھ لیں تو اُس وقت واقفین نو کے لئے بعض مستقل پروگرام، بعض مستقل فیچرز آپ کے رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتے رہنے چاہئیں کہ وقف نو کیا ہے، ہم ان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ اور بجائے اس کے کہ اکٹھا یک دفعہ پروگرام ایسا دے دیا جائے جو کچھ عرصے کے بعد بھول جائے۔یہ اخبارات چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تربیتی پروگرام پیش کیا کریں اور جب ایک حصہ رائج ہو جائے تو پھر دوسرے کی طرف متوجہ ہوں پھر تیسرے کی طرف متوجہ ہوں۔واقفین بچوں کی علم بنیاد وسیع ہونی چاہئے۔عام طور پر دینی علماء میں یہی کمزوری دکھائی دیتی ہے کہ دین کے علم کے لحاظ سے تو اُن کا علم کافی وسیع اور گہرا بھی ہوتا ہے لیکن دین کے دائرے سے باہر دیگر دنیا کے دائروں میں وہ بالکل لاعلم