خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 85
خطبات طاہر جلد ۸ 85 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۹ء نے بیان کیا تھا اس کے دو حصے ہیں اول جماعت کی انتظامیہ کو کیا کرنا ہے اور دوسرا بچوں کے والدین کو کیا کرنا ہے؟ جہاں تک انتظامیہ کا تعلق ہے اُس کے متعلق وقتاً فوقتاً میں ہدایات دیتا رہا ہوں اور جو جو نئے خیال میرے دل میں آئیں یا بعض دوست مشورے کے طور پر لکھیں ان کو بھی اس منصو بے میں شامل کر لیا جاتا ہے لیکن جہاں تک والدین کا تعلق ہے آج میں اس ذمہ داری سے متعلق کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔خدا کے حضور بچے کو پیش کرنا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہے کوئی معمولی بات نہیں ہے اور آپ یا درکھیں کہ وہ لوگ جو خلوص اور پیار کے ساتھ قربانیاں دیا کرتے ہیں وہ اپنے پیار کی نسبت سے اُن قربانیوں کو سجا کر پیش کیا کرتے ہیں۔قربانیاں اور تحفے دراصل ایک ہی ذیل میں آتے ہیں۔آپ بازار سے شاپنگ کرتے ہیں عام چیز جو گھر کے لئے لیتے ہیں اُس کو باقاعدہ خوبصورت کاغذوں میں لپیٹ کر اور فیتوں سے باندھ کر سجا کر آپ کو پیش نہیں کیا جاتا لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ ہم نے تحفہ لینا ہے تو پھر دکاندار بڑے اہتمام سے اُس کو سجا کر پیش کرتا ہے۔پس قربانیاں تحفوں کا رنگ رکھتی ہیں اور اُن کے ساتھ سجاوٹ ضروری ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا بعض لوگ تو مینڈھوں کو ، بکروں کو بھی خوب سجاتے ہیں اور بعض تو اُن کو زیور پہنا کر پھر قربان گاہوں کی طرف لے کر جاتے ہیں، پھولوں کے ہار پہناتے ہیں اور کئی قسم کی سجاوٹیں کرتے ہیں۔انسانی قربانی کی سجاوٹیں اور طرح کی ہیں۔انسانی زندگی کی سجاوٹ تقویٰ سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے پیار اور اُس کی محبت کے نتیجے میں انسانی روح بن ٹھن کر تیار ہوا کرتی ہے۔پس پیشتر اس سے کہ یہ بچے اتنے بڑے ہوں کہ جماعت کے سپرد کئے جائیں گے۔ان ماں باپ کی بہت ذمہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کو اس طرح تیار کریں کہ ان کے دل کی حسرتیں پوری ہوں۔جس شان کے ساتھ وہ خدا کے حضور ایک غیر معمولی تحفہ پیش کرنے کی تمنار کھتے ہیں وہ تمنا ئیں پوری ہوں۔اس سے پہلے جو مختلف ادوار میں واقفین جماعت کے سامنے پیش کئے جاتے رہے اُن کی تاریخ پر نظر رکھتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ کئی قسم کے واقفین ہیں کچھ تو وہ تھے جنہوں نے بڑی عمروں میں ایسی حالت میں اپنے آپ کو خود پیش کیا کہ خوش قسمتی کے ساتھ اُن کی اپنی تربیت بہت اچھی ہوئی ہوئی تھی اور وقف نہ بھی کرتے تب بھی وقف کی روح رکھنے والے لوگ تھے۔صحابہ کی اولا دیا اول تابعین کی اولا داچھے ماحول میں، اچھی پرورش اور خدا تعالیٰ کے فضل کے