خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 84
خطبات طاہر جلد ۸ 84 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۹ء براہ راست پیغام کا اثر ہو سکتا ہے اُس سے بہت سے احمدی علاقے محروم رہ گئے۔بعد ازاں مؤثر رنگ میں اس تحریک کو پہنچانا یہ انتظامیہ کی ذمہ داری تھی مگر بعض جگہ ذمہ داری کو ادا کیا گیا اور بعض جگہ یا ادانہیں کیا گیا یا نیم دلی کے ساتھ ادا کیا گیا ہے۔پیغام پہنچانا صرف کافی نہیں ہوا کرتا کس جذبے کے ساتھ پیغام پہنچایا جاتا ہے، کس محنت اور کوشش اور خلوص کے ساتھ پیغام پہنچایا جاتا ہے۔یہ پیغام کے قبول کرنے کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔مختلف دنیا میں پیغمبر آئے بنیادی طور پر ایک ہی پیغام تھا یعنی خدا کا پیغام بندوں کے نام لیکن جس شان کے ساتھ وہ پیغام حضرت محمد مصطفی ﷺ نے پہنچایا اس شان سے کوئی اور پہنچا نہیں سکا اور جس عظمت اور قدر اور قربانی کی روح کے ساتھ آپ کا پیغام قبول کیا گیا ویسے تاریخ انبیاء میں کسی اور کا پیغام قبول نہیں کیا گیا۔اس لئے پیغام پہنچا نا کافی نہیں۔کس رنگ میں اور کس جذبے کے ساتھ ، کس خلوص کے ساتھ ، کس درجہ محبت اور پیار کے ساتھ دعائیں کرتے ہوئے پیغام پہنچایا جاتا ہے۔یہ وہ چیزیں ہیں جو پیغام کی قبولیت یا عدم قبولیت کا فیصلہ کیا کرتی ہیں۔اس لئے میری خواہش یہ تھی کم سے کم پانچ ہزار بچے اگلی صدی کے واقفین نو کے طور پر ہم خدا کے حضور پیش کریں۔ابھی کافی سفر باقی ہے اس تعداد کو پورا کرنے میں اور دوست یہ لکھ رہے ہیں کہ جہاں تک اُن کا تاثر تھایا میں نے جو شروع میں خطبے میں بات کی تھی اس کا واقعہ یہی نتیجہ نکلتا ہو گا کہ جو اس صدی سے پہلے پہلے بچے پیدا ہو جائیں گے وہ وقف نو میں لئے جائیں گے اور اُس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو جائے گا لیکن جس طرح بعض دوستوں کے خطوط سے پتا چل رہا ہے وہ خواہش رکھتے ہیں لیکن یہ سمجھ کر کہ اب وقت نہیں رہا وہ اس خواہش کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے اُن کے لئے اور مزید تمام دنیا کی جماعتوں کے لئے جن تک ابھی یہ پیغام ہی نہیں پہنچا میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ وقف نو میں شمولیت کے لئے مزید دو سال کا عرصہ بڑھایا جاتا ہے اور یہ عرصہ فی الحال دو سال کا بڑھایا جارہا ہے تا کہ اس پہلی تحریک میں شامل ہو جائے ورنہ یہ تحریک تو بار بار ہوتی ہی رہے گی لیکن وہ خصوصاً تاریخی تحریک جس میں اگلی صدی کے لئے ایک واقفین بچوں کی پہلی فوج تیار ہو رہی ہے اُس کا عرصہ آج تا دو سال تک بڑھایا جارہا ہے۔اس عرصے میں جماعتیں کوشش کر لیں اور جس حد تک بھی ممکن ہو یہ فوج پانچ ہزاری تو ضرور ہو جائے اس سے بڑھ جائے تو بہت ہی اچھا ہے۔بہت سے والدین مجھے لکھ رہے ہیں کہ ان کے متعلق اب ہم نے کرنا کیا ہے؟ جیسا کہ میں