خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 86
خطبات طاہر جلد ۸ 86 خطبه جمعه ار فروری ۱۹۸۹ء ساتھ اچھی عادات سے سجے ہوئے لوگ تھے۔وہ واقفین کا جو گروہ ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہر پہلو سے زندگی کے ہر شعبے میں نہایت کامیاب رہا۔پھر ایک ایسا دور آیا جب بچے وقف کرنے شروع کئے گئے یعنی والدین نے اپنی اولاد کو خود وقف کرنا چاہا۔اس دور میں مختلف قسم کے واقفین ہمارے سامنے آئے ہیں۔بہت سے وہ ہیں جن کو والدین سمجھتے ہیں کہ جب ہم جماعت کے سپر د کریں گے تو وہ خود ہی تربیت کریں گے اور اس عرصے میں انہوں نے اُن پر نظر نہیں رکھی۔پس جب وہ جامعہ میں پیش ہوتے ہیں تو بالکل ایسے Raw میٹریل کے طور پر، ایسے خام مال کے طور پر پیش ہوتے ہیں جس کے اندر بعض مختلف قسم کی ملاوٹیں بھی شامل ہو چکی ہوتی ہیں اُن کو صاف کرنا ایک کاردار د ہوا کرتا ہے۔اُن کو وقف کی روح کے مطابق ڈھالنا بعض دفعہ مشکل بلکہ محال ہو جایا کرتا ہے اور بعض بد عادتیں وہ ساتھ لے کر آتے ہیں یعنی بعض باتیں جماعت ویسے سوچ بھی نہیں سکتی لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ بعض لڑکوں کو جامعہ میں چوری کے نتیجے میں وقف سے فارغ کیا گیا ہے۔کسی کو جھوٹ کے نتیجے میں وقف سے خارج کیا گیا ہے۔اب یہ باتیں ایسی ہیں جن کے متعلق یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ اچھے نیک ، صالح احمدی میں پائی جائیں کجا یہ کہ وہ واقفین زندگی میں پائی جائیں لیکن معلوم یہی ہوتا ہے کہ والدین نے پیش تو کر دیا لیکن تربیت کی طرف توجہ نہ کی یا اتنی دیر کے بعد اُن کو وقف کا خیال آیا کہ اُس وقت تربیت کا وقت باقی نہیں رہا تھا۔بعض والدین سے تو یہ بھی پتا چلا کہ اُنہوں نے اس وجہ سے بچہ وقف کیا تھا کہ عادتیں بہت بگڑی ہوئی تھیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اُس طرح تو ٹھیک نہیں ہوتا وقف کر دو تو آپ ہی جا کر جماعت سنبھال لے گی اور ٹھیک کرے گی۔جس طرح پرانے زمانے میں بعض دفعہ بگڑے ہوئے بچوں کو کہتے تھے اچھا اس کو تھانیدار بنوادیں گے تو یہ جماعت میں چونکہ نیکی کی روح ہے۔تھانیداری کا تو خیال نہیں آتا اُن کو لیکن واقف بنانے کا خیال آجاتا ہے حالانکہ تھانیداری سے تو ایسے بچوں کا تعلق ہو سکتا ہے وقف کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔بہت بعید کی بات سوچتے ہیں یہ لوگ۔وہ تو لطیفہ ہے تھانیداری والا لیکن یہ تو دردناک واقعہ ہے۔وہ تو ایک ہنسنے والی کہاوت کے طور پر مشہور ہے یہ تو ایک بہت بڑا زندگی کا المیہ ہے کہ خدا کے حضور پیش کرنے کے لئے آپ کو بس گندہ بچہ نظر آیا ہے، ناکارہ محض بچہ نظر آیا ہے جو ایسی گندی عادتیں لے کر پلا ہے کہ آپ اُس کو ٹھیک نہیں کر سکتے۔اس لئے یہ جو تازہ کھیپ آنے والی ہے بچوں کی اس میں ہمارے پاس خدا کے فضل سے بہت سا وقت ہے