خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 828 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 828

خطبات طاہر جلد ۸ 828 خطبه جمعه ۲۲ دسمبر ۱۹۸۹ء بے اختیار ہو کر بیٹھ گئی۔اس شخص نے آٹھویں ترمیم کے نام پر، اکیلے نے ایک آرڈینینس بنایا اور جبراً اس وقت کے ملکی نمائندگان پر وہ قانون بعد میں ٹھونس دیا اور ساری قوم بھی مل کر اب اس ایک آدمی کے بنائے ہوئے قوانین کو منسوخ نہیں کر سکتی۔یہ تو انسانی قوانین کا حال ہوا کرتا ہے۔قانون وہی ہے جو خدا بنائے اور خدا کے بنائے ہوئے قانون کے سوا اور کوئی قانون دنیا میں در حقیقت پیروی کے قابل نہیں ہے۔اسی حد تک ہم اس کی پیروی کرتے ہیں جس حد تک خدا کا قانون ہمیں مجبور کرتا ہے اور خدا کے قانون میں ایسی شقیں بھی ہیں جس کی رُو سے بہت سے حالات میں ہمیں دُنیا کے قوانین کو بھی ماننا پڑتا ہے۔خواہ وہ معقول ہوں یا غیر معقول ہوں۔ہاں جہاں وہ خدا کے قانون سے ٹکرا جائیں وہاں ہم پر فرض نہیں رہتا کہ اس پر عمل کریں اور جہاں وہ واجبات سے ٹکرا جائیں وہاں ہمیں اجازت نہیں ہے کہ ہم ان قوانین کی پیروی کریں۔پس یہ ہے خلاصہ اس ساری صورتِ حال کا جتنا بھی انہوں نے زور لگایا، جیسے جیسے بھی قوانین بنائے اور احمدیوں پر تبرر کھنے کی کوشش کی یہ نا کام ہو چکے ہیں کلیڈ اور ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہے۔جو شخص لا الہ الا اللہ پڑھے ، اس کے متعلق یہ الزام لگ ہی نہیں سکتا کہ تم مسلمان بن رہے ہو جبتک اگلی شق پوری نہ کرے۔جب اگلی شق پوری کرتا ہے تو اُن کے قانون کی زد سے ویسے ہی نکل جاتا ہے اس لئے بالکل حقیر اور بے معنی قانون ہے۔آخر پر میں ایک معاملے میں ساری دنیا کے مسلمانوں کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں۔پاکستان میں گزشتہ ۲۰، ۲۵ سال میں یا زیادہ عرصہ ہوا۔۱۹۵۳ء میں تو خاص طور پر یہ بات نمایاں ہوئی ہے تو اب تو تمہیں اور پانچ ، ۳۵ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔۱۹۵۳ء سے شروع ہو کر یا ۱۹۵۲ء سے شروع ہو کر کہنا چاہئے جب وہ تحریک نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے جس کے ذریعے جماعت احمدیہ کو طرح طرح کے الزامات کا نشانہ بنایا گیا اور بالآ خر کوشش کی گئی کہ جماعت احمدیہ کو اسلام سے خارج کر دیا جائے۔اس تحریک سے لے کر اب تک مسلسل جو کوشش کی جارہی ہے اس کے نتیجے میں ایک بات زیادہ واضح اور نمایاں ہوتی چلی جارہی ہے کہ متشد د علماء، باوجود اس کے کہ ایک دوسرے سے شدید نفرت رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے بنیادی باتوں میں اختلاف کرتے ہیں، اس بات میں ایکا کر چکے ہیں کہ ہم شریعت کے نام پر اس ملک میں حکومت کریں اور ہر ایک کی یہی خواہش ہے۔ہر ایک نے یہ زور لگانے کی کوشش کی ہے۔ہر ایک آج بھی زور لگا رہا ہے کہ شریعت کے نام پر میں اس ملک پر حاکم ہو